حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 278 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 278

حیات احمد ۲۷۸ جلد چهارم سلسلہ میں نام ونشان تک نہیں پایا جاتا۔پس جیسا کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیں یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ دنیا نے دین کے صد ہا ضروری مسائل یہاں تک کہ صوم و صلوۃ بھی صرف امام بخاری اور مسلم وغیرہ کی احادیث سے سیکھے ہیں۔کیا سو ڈیڑھ سو برس تک لوگ بے دین ہی چلے آتے تھے کیا وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے زکوۃ نہیں دیتے تھے۔حج نہیں کرتے تھے اور ان تمام اسلامی عقائد کے امور سے جو حدیثوں میں لکھے ہیں بے خبر تھے۔حاشا و گلا ہر گز نہیں اور جو کوئی ایسا خیال کرے اُس کا حمق ایک تعجب انگیز نادانی ہے پھر جب کہ بخاری اور مسلم وغیرہ ائمہ حدیث کے زمانہ سے پہلے بھی اسلام ایسا ہی سرسبز تھا جیسا کہ ان اماموں کی تالیفات کے بعد تو پھر یہ خیال کس قدر بے تمیزی اور نا سمجھی ہے کہ سراسر حکم کی راہ سے یہ اعتقاد کر لیا جائے کہ صرف دوسری صدی کی روایتوں کے سہارے سے اسلام کا وہ حصہ پھولا پھلا ہے جس کو حال کے زمانہ میں احادیث کہتے ہیں اور افسوس تو یہ کہ مخالف تو مخالف ہمارے مذہب کے بے خبر لوگوں کو بھی یہی دھوکا لگ گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گویا ایک مدت کے بعد صرف حدیثی روایات کے مطابق بہت سے مسائل اسلام کے ایسے لوگوں کو تسلیم کرائے گئے ہیں کہ جو ان حدیثوں کے قلمبند ہونے سے پہلے ان مسائل سے بکلی غافل تھے بلکہ حق بات جو ایک بدیہی امر کی طرح ہے یہی ہے کہ ائمہ حدیث کا اگر لوگوں پر کچھ احسان ہے تو صرف اس قدر کہ وہ امور جو ابتدا سے تعامل کے سلسلہ میں ایک دنیا اُن کو مانتی تھی اُن کی اسناد کے بارہ میں ان لوگوں نے تحقیق اور تفتیش کی اور یہ دکھلا دیا کہ اس زمانہ کی موجودہ حالت میں جو کچھ اہل اسلام تسلیم کر رہے ہیں یا عمل میں لا رہے ہیں یہ ایسے امور نہیں جو بطور بدعات اسلام میں اب مخلوط ہو گئے ہیں بلکہ یہ وہی گفتار و کردار ہے جو آنحضرت صلعم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تعلیم فرمائی تھی۔افسوس کہ اس صحیح اور واقعی امر کے سمجھنے میں غلط نہی کر کے کو نہ اندیش لوگوں نے