حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 276
حیات احمد جلد چهارم ہزا رہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں اور ایسی مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔“ ذریعہ یقین تعامل ہے (شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۹،۲۹۸) پس میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا دھوکا ہوگا اگر یہ خیال کر لیا جائے گا که صرف مدار ثبوت ان رکعات اور کیفیت نماز خوائی کا اُن چند حدیثوں پر تھا جو بنظر ظاہر احاد سے زیادہ معلوم نہیں ہوتیں اگر یہی سچ ہے تو سب سے پہلے فرائض اسلام کے لئے ایک سخت اور لا علاج ماتم در پیش ہے جس کی فکر ایک مسلمان کہلانے والے ذی غیرت کو سب سے مقدم ہے۔مگر یادر ہے کہ ایسا خیال فقط ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کبھی بیدار ہو کر سوانح اور واقعات رسوم اور عبادات اسلام کی طرف نظر نہیں کی کہ کیونکر اور کس طریق سے یقینی امور کا ان کو مرتبہ حاصل ہوا۔سو واضح ہو کہ اس یقین کے بہم پہنچانے کے لئے تعامل قومی کا سلسلہ نہایت تسلّی بخش نمونہ ہے مثلاً وہ احادیث جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز فجر کی اس قدر رکعت اور نماز مغرب کی اس قدر رکعات ہیں اگر چہ فرض کرو کہ ایسی حدیثیں دو یا تین ہیں اور بہر حال احاد سے زیادہ نہیں مگر کیا اس تحقیق سے اور اس تفتیش سے پہلے لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے اور حدیثوں کی تحقیق اور راویوں کا پتہ ملنے کے بعد پھر نمازیں شروع کرائی گئیں تھیں بلکہ کروڑہا انسان اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور اگر فرض کے طور پر حدیثوں کے اسنادی سلسلہ کا وجود بھی نہ ہوتا۔تا ہم اس سلسلہ تعامل سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت تھا کہ نماز کے بارے میں اسلام کی مسلسل تعلیم وَقْتًا بَعْدَ وَقْتِ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنِ یہی چلی آئی ہے۔ہاں احادیث کی اسناد مرفوعہ متصلہ نے اس سلسلہ کو نُورٌ