حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 253 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 253

حیات احمد ۲۵۳ جلد چهارم آپ نے ایک اعلان عام کے ذریعہ دعوت دی جو اسی کتاب میں زیر عنوان تفسیر القرآن میں مقابلہ درج ہے۔اور جس سے انحراف پر دس لعنتوں کا تحفہ فریق مخالف کے لئے پیش کیا تھا۔اور اپنے لئے ہر سزا قبول کرنے کا اقرار تھا۔اس کا جواب مولوی محمد حسین صاحب نے جناب مرزا خدا بخش صاحب کو ( جو یہ اشتہار دستی لے کر گئے تھے ) زبانی دیا کہ یکم اپریل سے دو ہفتہ تک اس کا جواب چھاپ کر بھیج دیں گے۔یہ میعاد گزر جانے کے بعد پھر یاد دلایا گیا۔اس ساری کیفیت کو آپ نے حجت الاسلام نام کتاب کے صفحہ ۱۱و۱۲ پر ۸ مئی ۱۸۹۳ء کو شائع کر دیا۔اس وقت تک مولوی صاحب نے عملاً کوئی آمادگی نہ دکھائی۔بظاہر وہ کہتے رہے کہ مجھے منظور ہے لیکن آخر اپنے رسالہ اشاعتہ السنہ نمبر ۸ جلد ۱۵ میں جرحی سوالات متعلق پیش گوئی مرزا احمد بیگ وغیرہ شائع کئے اور اعلان کیا کہ تفسیر نویسی سے پہلے ان سوالات کا جواب دینا ہوگا۔اور پھر ان اغلاط کے متعلق بحث ہوگی۔جو مولوی صاحب اپنے زعم باطل میں صرفی نحوی یا سہو کا تب وغیرہ سمجھتے ہو۔اور اگر پہلی عربی تصنیف غلطیوں سے بالکل پاک ہوگی تو پھر تفسیر نویسی ہوگی وغیرہ۔کرامات الصادقین کی تصنیف حضرت اقدس نے خود مولوی صاحب کے اس قسم کے اعتراضات پر ایک تنقیدی ریمارک کرتے ہوئے یہ پسند کیا کہ میں اپنے وعدہ کے موافق وہ عربی تفسیر اور قصائد عربیہ نعتیہ شائع کر دوں۔چنانچہ اس مقصد کے لئے بطور اتمام حجت آپ نے کرامات الصادقین لکھی۔جس میں چار نعتیہ قصائد لکھے۔اور سورۃ الفاتحہ کی عربی تفسیر لکھی جو ایسے حقائق و معارف پر مشتمل ہے جو عدیم النظیر ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے اس امر کی بھی وضاحت فرمائی کہ میں اس تالیف پر کیوں مجبور کیا گیا۔اور مولوی محمد حسین صاحب نے کس طرح راه گریز اختیار کرنے کے لئے حیلے پیدا کئے۔چونکہ ان حالات کا خود حضرت کے الفاظ میں معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہیں۔اور اللہ تعالیٰ