حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 254 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 254

حیات احمد ۲۵۴ جلد چهارم کی تائید اور نصرت کے نشانات کا مظاہرہ ہے اس لئے میں اسے درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔اما بعد واضح ہو کہ موافق اس سنت غیر متبدلہ کے کہ ہر یک غلبہ تاریکی کے وقت خدا تعالیٰ اس امت مرحومہ کی تائید کے لئے توجہ فرماتا ہے اور مصلحت عامہ کے لئے کسی اپنے بندہ کو خاص کر کے تجدید دین متین کے لئے مامور فرما دیتا ہے۔یہ عاجز بھی اس صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجدد کا خطاب پاکر مبعوث ہوا۔اور جس نوع اور قسم کے فتنہ دنیا میں پھیل رہے تھے ان کے رفع اور دفع اور قلع قمع کرنے کے لئے وہ علوم اور وسائل اس عاجز کو عطا کئے گئے کہ جب تک خاص عنایت الہی ان کو عطا نہ کرے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے مگر افسوس کہ جیسا قدیم سے نا تمام اور ناقص الفہم علماء کی عادت ہے کہ بعض اسرار اپنے فہم سے بالا تر پا کر منبع اسرار کو کافر ٹھہراتے رہے ہیں اسی راہ پر اس زمانہ کے بعض مولوی صاحبوں نے بھی قدم مارا اور ہر چند نصوص قرآنیہ و حدیثیہ سے سمجھایا گیا۔مگر ایک ذرہ بھی صدق کی روشنی ان کے دلوں پر نہ پڑی بلکہ برعکس اس کے تکفیر اور تکذیب کے بارہ میں وہ جوش دکھلایا کہ نہ صرف کافر کہنے پر کفایت کی بلکہ انحفر نام رکھا اور ایک مومن اہل قبلہ کے خلود جہنم پر فتوے لکھے۔اس عاجز نے بار بار خداوند کریم کی قسمیں کھا کر بلکہ مسجد میں جو خانہ ء خدا ہے بیٹھ کر ان پر ظاہر کیا کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ پر ایمان لاتا ہوں مگر ان بزرگوں نے قبول نہ کیا اور کہا منافقانہ اقرار ہے۔خاص کر ان میں سے جو میاں محمد حسین بطالوی ہیں انہوں نے تو اپنی ضد کو کمال تک پہنچا دیا اور کہا کہ اگر میں بچشم خود نشان بھی دیکھوں تو میں ہرگز مسلمان نہ سمجھوں گا اور ہمیشہ کا فر کہتا رہوں گا۔چنانچہ بعض نشان بھی ظاہر ہوئے مگر حضرت بطالوی صاحب نے ان کا نام استدراج یا نجوم رکھا اور ہر ایک طور سے لوگوں کو دھو کے دیئے۔چنانچہ منجملہ ان دھوکوں کے ایک یہ بھی ہے کہ یہ شخص بالکل جاہل اور