حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 252 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 252

حیات احمد ۲۵۲ جلد چهارم میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵ ۳۵ تا ۳۵۸) اور آپ نے نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ متعدد مرتبہ اس امر کا علی الاعلان اظہار کیا کہ میں بعض حقائق و معارف قرآنیہ کے بیان میں منفرد اور مخصوص ہوں۔اور ان حقائق و معارف کی تفصیل جن میں آپ نے منفرد ہونے کا دعویٰ کیا آپ کی تالیفات میں موجود ہیں۔لیکن جب مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے علوم ظاہری پر ناز کیا اور آپ کو جاہل (نعوذ باللہ ) اور علوم عربیہ سے بے بہرہ قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کی غیرت نے ( جو وہ اپنے مامورین کے لئے رکھتا ہے ) تقاضا کیا کہ اس مقابلہ میں دشمن کی شیشی کو عوام کے سامنے ذلت سے بدل دیا جاوے جیسا کہ قارئین حضرت اقدس کے اعلانات میں پڑھ چکے ہیں۔چالیس ہزار مادے سکھائے گئے آپ نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا تھا۔اور نہ ان علوم ظاہری کی حقیقت کے مقابلہ میں آپ کوئی قیمت سمجھتے تھے۔چنانچہ فرمایا۔علم آن بود که نور فراست رفیق اوست این علم تیره را به پشیزے نے خرم غرض محمد حسین صاحب کی اس لاف و گزاف نے آپ کو تحریک دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رات کی دعا میں عربی زبان کے چالیس ہزار مادے آپ کو سکھا دیئے۔تب اس اعجاز کے اظہار کے لئے آپ نے چیلنج دیا۔اور اب جبکہ مباحثہ اور مباہلہ سے فراغت پا کر آپ آگئے تھے آپ نے اس مطالبہ کا جو آپ مِنْ وجه ۱۸۹۱ء سے کرتے آئے تھے۔اور ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء کو ہتر جمہ علم تو وہ ہے کہ فراست کا نور اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔اس تاریک علم کو تو میں ایک کوڑی کو بھی نہیں خریدتا۔