حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 230 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 230

حیات احمد ۲۳۰ جلد چهارم میں تیسری یا چوتھی ذیقعدہ ۱۳۱۰ ھ تک امرت سر پہنچ جاؤں گا اور تاریخ مباہلہ دہم ذیقعدہ اور یا بصورت بارش وغیرہ کسی ضروری وجہ گیارہویں ذی قعدہ قرار پائی ہے جس سے کسی صورت میں تخلف لازم نہیں ہوگا۔اور مقام مباہلہ عیدگاہ جو قریب مسجد خاں بہا در محمد شاہ صاحب قرار پایا ہے اور چونکہ دن کے پہلے حصہ میں قریباً بارہ بجے تک عیسائیوں سے درباره حقیت اسلام اس عاجز کا مباحثہ ہوگا۔اور یہ مباحثہ برابر بارہ دن تک ہوتا رہے بقیہ حاشیہ۔آوے گا جو شقی سرمدی ہو إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْفْنُّ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ إِنَّمَا سُلْطَتُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ لے اور ایک اور ابلہ فریبی وشعبدہ بازی کاریگر کی سنئے۔ایک اشتہار مورخہ ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء میں خامہ فرسائی کی ہے کہ ایک سورۃ کی تفسیر عربی میں لکھتا ہوں اور ایک جانب مخالف لکھے اور اس میں ایسے معارف جدیدہ و لطائف غریبہ لکھے جائیں جو کسی دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں۔ارے مخبوط الحواس ہم تو اسی سبب سے تجھے ملحد اور ضال اور معضل اور زندیق کہتے ہیں کہ تم وہ معانی قرآن اور حدیث کے کرتے ہو جو آج تک کسی مفسر و محدّث متبع سنت نے نہیں کئے پھر اور جو مسلمان ایسے معانی کرے گا تو وہ بھی آپ کا ہی بھائی ہوگا۔نیز اسی اشتہار میں لکھا ہے کہ آخر ۱۰۰ شعر لطیف بلیغ و فصیح عربی میں بطور قصیدہ فریقین بناویں پھر دیکھیں کہ کس کا قصیدہ عمدہ و پسندیدہ ہے۔قصیدہ و شعر گوئی تو کوئی فضیلت اور بزرگی اور حقانیت و علمیت کا معیار و مدار نہیں۔تک بندی اور قافیہ سازی ایک ملکہ ہے جو فساق اور فُجَّار اور بے دینوں کو بھی دیا جاتا ہے۔بلکہ ایک طرح کا نقص ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بچایا۔وَ مَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنْبَغِی لَهُ " اگر کچھ فضیلت اور حقیت کی بات ہوتی تو اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جاتی کچھ مردانگی بھی چاہیے۔خشوں کی طرح بیہودہ سمع خراشی اور بکواس کیوں کرتے ہو۔ے إِنْ كُنتُمْ أَنْتُ فَحُوْلًا فَابْرِزُوْا وَدَ عُــــو الشــــــــــــاوى حِيْلَةَ النِّسْوَان شاید اب یہ حیلہ کرو کہ تم سے مباہلہ کا کیا فائدہ کیونکہ تم حافظ محمد یوسف صاحب کو کہہ چکے کہ اگر مجھ پر لعنت کا اثر بھی ظاہر ہوا تو بھی میں کافر کافر کہنے سے باز نہیں آؤں گا۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح قادیانی کی طرح معصومیت کا دعویٰ نہیں رکھتا ہوں اگر مجھ سے غَضْبًا لِلَّهِ وَغَيْرَةً لِدِينَ اللہ کوئی کلمہ زیادتی یا خلاف النحل: ٧٠ پاس 20