حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 231 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 231

حیات احمد ۲۳۱ جلد چهارم گا۔اس لئے مکفرین جو مجھ کو کا فر ٹھہرا کر مجھ سے مباہلہ کرنا چاہتے ہیں۔دو بجے سے شام تک مجھ کو فرصت ہوگی۔اس وقت بتاریخ دہم ذی قعدہ یا بصورت کسی عذر کے گیاراں ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو مجھ سے مباہلہ کر لیں۔اور دہم ذیقعد اس مصلحت سے تاریخ قرار پائی ہے کہ تا دوسرے علماء بھی جو اس عاجز کلمہ گواہل قبلہ کو کا فرٹھہراتے ہیں شریک مباہلہ ہوسکیں جیسے محی الدین لکھو کے والے اور مولوی عبدالجبار صاحب اور بقیہ حاشیہ۔ادب نکلا بھی ہو تو میں اس سے بہزار زبان تائب ہوں۔ے گفتگوئے عاشقان در باب ربّ جوششِ عشق است نے ترک ادلے ہر کہ کرد از جام حق یک جرعه نوش نے ادب ماند درو نے عقل و ہوشے حافظ کے مباہلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف جو مرزا کا اول درجہ کا ناصر ومؤید و مددگار ہے اس نے ۲ رشوال بوقت شب مجھ سے بار بار درخواست مباہلہ کی۔آخر الامر اس وقت اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا اور نورالدین و محمد احسن امروہی یہ تینوں مرتد اور دجال اور کذاب ہیں۔چونکہ تا ہنوز لعنت کا اثر ظاہراً اس پر نمودار نہیں ہوا لہذا پیر جی کو بھی گرمی آگئی اور عام طور پر اشتہار مباہلہ دے دیا۔ذرا صبر تو کرو۔دیکھو اللہ کیا کرتا ہے۔وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِاَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّهُ حَكِيْمٌ حَمِيدٌ مجھ کو دور روز پیشتر محمد یوسف کے مباہلہ سے دکھایا گیا کہ میں نے ایک شخص سے مباہلہ کی درخواست کی اور یہ شعر سنایا سے به صوت بلبل و قمری اگر نہ گیری پند علاج کے کنمت آخِرُ الدَّوَاءِ الْكَيُّ اور بھی کچھ دیکھا جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں۔میں خود حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے دو دن بعد یہ مباہلہ در پیش ہوا۔اب بذریعہ اشتہار ہذا بدستخط خود مطلع کرتا ہوں اور سب جہاں کو گواہ کرتا ہوں کہ اگر تمہارے ساتھ مباہلہ کرنے سے مجھ پر کچھ لعنت کا اثر صریح طور پر جو عموماً سمجھا جاوے کہ بے شک یہ مباہلہ کا اثر ہوا ہے تو میں لے و سے ترجمہ۔رب کے حضور عاشق کی گفتگو اس کے عشق کے جوش کے باعث ہوتی ہے نہ کہ ترک ادب کا کوئی پہلو۔جس نے بھی عشق الہی کے جام محبت سے ایک گھونٹ پی لیا اس میں عقل و ہوش اور ادب نہیں رہتا۔سے ترجمہ۔اگر تو بلبل و قمری کی آواز سے نصیحت نہیں پکڑتا تو میں تیرا علاج کیسے کروں آخری دوا تو داغنا ہی ہے۔