حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 228 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 228

حیات احمد ۲۲۸ جلد چهارم مقابلہ میں آنے کی ہمت نہ ہوئی۔لیکن عبد الحق غزنوی نے اس اشتہار کی بناء پر ایک اشتہار ۲۶ شوال ۱۳۱۵ (۱۶ رمئی ۱۸۹۳ء) کو شائع کیا۔چونکہ حضرت اقدس کو جنگ مقدس (مباحثہ عیسائیان ) میں امرت سر آنا تھا آپ نے فیصلہ کیا کہ اسی سفر میں مباہلہ کے ذریعہ علماء مکفرین پر اتمام حجت کیا جاوے۔اس لئے آپ نے عبدالحق غزنوی کے جواب میں ۳۰ رشوال ۱۳۱۰ھ (۱۸ مئی ۱۸۹۳ء) مندرجہ ذیل اعلان مباہلہ کے لئے شائع کر دیا۔حاشیہ۔مولوی عبدالحق غزنوی کا اشتہار میں اس لئے حاشیہ میں درج کر رہا ہوں تا کہ قارئین کرام کو اندازہ ہو جائے کہ اہل حق اور اہل باطل کے کلام میں اور عمل میں کیا فرق ہے۔استدعا مباہلہ از مرزا قادیانی بذریعہ اشتہار بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ایک اشتہار مطبوعه ۲۵ / اپریل ۱۸۹۳ء از جانب مرزا بتاریخ ۱۹ رشوال ۱۳۱۰ھ میری نظر سے گزرا جس میں اس مباہلہ کا ذکر تھا جو بتاریخ ۲ شوال ۱۳۱۰ھ میرے اور حافظ محمد یوسف کے درمیان مرزا اور اس کے چیلوں کے ارتداد کی بابت ہوا تھا۔نیز اس میں استدعا مباہلہ علمائے اسلام سے تھی۔صاحب قادیانی کا یہ اشتہار حسب عادت خود پر از کذب و بهتان و افترا ہے۔ارے مرزا جب تجھے کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چودہ سو برس کے مسلمانوں کو جھٹلاتے شرم نہ آئی تو ہم سے کیا شرم إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ هِ طعنه گیرد در سخن بر بایزید ننگ دارد از درون او یزید جو لوگ بمضمون سلام علیکم لا نَبْتَغِي الْجَاهِلِيْن جاہلوں اور یاوہ گووں کے جھگڑوں سے بچتے اور کنارہ کرتے ہیں اور ایست خُذِ الْعَفْوَ وَأمُرُ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجُهِلِينَ پر عامل اور گوشہ نشینی اور خلوت گزینی کی طرف مائل ہیں۔ان سے مباحثہ اور مباہلہ کی درخواست ہے اور جو لوگ شاہ سوار میدان ہیں اور بار بار مباہلہ اور مباحثے کے اشتہار چھپوا کر اور رجسٹری شدہ خطوط اور معتبر اشخاص کی وساطت سے پہنچا کر دل و جان سے تیرے لقا کے میدان مباحثہ و مباہلہ میں شائق و مشتاق ہیں ان سے کیوں گریز اور روپوشی کرتے ہوا ور مصداق لے ترجمہ۔جو بایزید کی بات پر طعنہ کرتا ہے اس کے اندرونہ پر یزید بھی شرم کرتا ہے۔الاعراف: ۲۰۰