حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 227
حیات احمد ۲۲۷ جلد چهارم سے رات کو مولوی نورالدین صاحب کے وعظ کے واسطے رہ جانے کی اجازت حضرت اقدس سے مانگی گئی آپ نے مولوی صاحب کو اجازت دے دی اور حکم دیا کہ آپ نے صبح کو چلے آنا۔مولانا صاحب۔اور مولوی عبد الکریم صاحب اور یہ عاجز راقم معہ محمد شاگردمولوی صاحب رات کو رہ گئے نکہ قصبہ جنڈیالہ میں عیسائیوں کی طرف سے اکثر عیسائیت کے پھیلانے کے واسطے ریشہ دوانیاں ہوتی رہتی ہیں بہت سے دام ان لوگوں نے اپنے پھندے میں پھنسانے کے یہاں پھیلا رکھے ہیں۔ایک ہسپتال بھی ان لوگوں کا یہاں قائم ہے۔ایک ریڈنگ روم ہے۔مدرسہ ہے۔بیرونی قصبہ مشرق کی طرف گرجا اور دیگر مکانات بھی موجود ہیں اس لئے تجویز ہوئی کہ رات کے وقت عام طور پر سر بازار مولوی صاحب لیکچر دیں چنانچہ حسب قرارداد بہت رات تک حضرت مولوی صاحب بیان فرماتے رہے آپ کے لیکچر کا انداز عام فہم تھا آریہ اور عیسائیوں کی تردید اس میں مقصود تھی سب لوگ سنکر بہت محظوظ ہوئے اور دوسرے دن صبح کو ہم لوگ بھی جنڈیالہ سے واپس آگئے۔محمد بخش صاحب پانڈہ اور ان کے لائق شاگرد محمد اسماعیل صاحب بہت مستعد اور عیسائیوں کے مقابل خوب استقلال سے کھڑے ہو کر مباحثہ کرنے والے ہیں ان کو ہمیشہ عیسائیوں سے پڑتا رہتا ہے۔مولانا مولوی نورالدین صاحب سے بھی انہوں نے چند ایک مشکل اعتراضات حاصل کرائے آپ کی کتاب فصل الخطاب جو عیسائیوں کے فضول اور بیہودہ اعتراضات کی رد میں آپ نے لکھی ہے ان لوگوں کے پاس موجود ہے۔اس کی نہایت مفید اور کار آمد ہونے کی ان لوگوں نے تعریف کی اور بہت عرصہ تک عیسائیوں کی قابل شرم سابقہ گفتگو کارروائیوں کا ذکر کیا۔عبدالحق غزنوی سے مباہلہ ۱/۲۵ اپریل ۱۸۹۳ء کو حضرت اقدس نے مکفرین ومکذبین علماء و مشایخ کے نام ایک عام اشتہار مباہلہ کے لئے شائع کیا تھا۔جو میں اسی کتاب میں درج کر آیا ہوں۔مگر ان میں سے کسی کو