حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 226 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 226

حیات احمد جلد چهارم فیضیاب ہوں حضرت اقدس نے اس کو منظور فرمالیا اس تجویز کے تین دن بعد قصبہ جنڈیالہ سے پھر ایک خاص آدمی حاضر ہوا کہ لوگ بہت مشتاق ہورہے ہیں۔حضور فرما دیں کہ کب تشریف لے چلیں گے۔بمنظوری حضرت اقدس جمعرات کا دن مقرر کیا گیا۔آپ یوم مقررہ کو صبح کی نماز سے فراغت پا کر مع رفقاء اور خدام درگاہ کے گاڑیوں پر سوار ہوکر قریب ۸ بجے کے جنڈیالہ میں پہنچے۔اس قصبہ کے اکثر معزز لوگ آگے استقبال کو کھڑے تھے بہت عزت وادب سے آپ کو ہمراہ لے گئے اور ایک جدید بنے ہوئے مکان میں جو مسجد میں ہے اتارا۔مکان کے ایک دالان اور کوٹھڑی میں فرش بچھا ہوا تھا۔کوٹھڑی میں تو حضرت اقدس فروکش ہوئے اور چار پائی پر آرام فرمایا۔کچھ احباب مع حضرت مولا نا مولوی نورالدین صاحب مسجد ملحقہ مکان میں آکر بیٹھ گئے اور سب معزز لوگ نہایت شوق سے مسجد میں جمع ہوئے اور بحث کے متعلق حالات سننے لگے حضرت مولوی صاحب موصوف نہایت دیر تک وعظ فرماتے رہے اور حالات سناتے رہے۔بہت ہی تواضع اور خاطر سے سب لوگ پیش آئے اور وہ لوگ اس قدر خوش معلوم ہوتے تھے کہ گویا ان کے واسطے آج عید کا دن ہے۔دو پہر کا کھانا کھانے کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر کر حضرت مقدس جناب مرزا صاحب بھی مسجد میں آبیٹھے چند ایک فہمیدہ اور لائق آدمی استفادہ کی نیت سے حضرت کی دعاوی کی نسبت سوال کرتے گئے اور جو باتیں کہ دہوکہ دہی کی غرض سے مولویوں نے پھیلا رکھی تھیں ان کی اصلیت خود حضرت اقدس نے انہیں سمجھائی اور بخوبی یہ ظاہر کیا کہ حضرت عیسی وفات پاگئے ہیں۔اس کے ثبوت میں صریح قطعی نصوص موجود ہیں۔غرضکہ دیر تک بیان کرنے سے ان لوگوں کی خوب تسلی ہوئی اور وہ نہایت شکر گزار ہوئے۔چونکہ آپ کی تشریف آوری کی دیہات گردو نواح میں خبر پہنچ چکی تھی قریب قریب دیہات کے لوگ بغرض مسئول شرف زیارت کو آتے تھے اور زیارت کر کے چلے جاتے تھے مسجد کے دروازوں پر عورتوں اور بچوں کا ہجوم تھا۔ساری مسجد اندر باہر سے انبوہ خلایق سے بھری ہوئی تھی عصر کی نماز تک حضرت مقدس جنڈیالہ میں مقیم رہے بعد فراغت نماز عصر تھوڑی دیر بیٹھ کر واپس امرت سر ہو گئے بعض باخبر اور واقف کارلوگوں کی تحریک