حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 225 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 225

حیات احمد ۲۲۵ جلد چهارم مرحوم کی مسجد میں بعد نماز مغرب عام وعظوں میں مولوی صاحب کی جو عظمت قائم ہوئی اس کو اسی سے قیاس کر لینا چاہیے کہ جب مولوی صاحب وعظ سے فارغ ہوتے تھے تو عام لوگ مصافحہ اور دست بوسی کے واسطے ایک دوسرے پر گر پڑتے تھے۔مولوی صاحب ہیں کہ بیچ میں کھڑے ہیں۔لوگ نہایت عزت و ادب و محبت و پیار سے مصافحہ کرنے میں دست بوس ہوتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اللهُ أَكْبَر كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ الخِ مولوی نورالدین صاحب کے ساتھ ان کی کمال تبحر اور معلومات علمی اور نیز فنِ طبابت کے سبب سے سب رؤساء شہر کو ایک اُنس ہو گیا اور یہاں تک ان کی جذب دل کی نوبت پہنچی کہ وہ ہمیشہ کے واسطے امرت سر میں قیام رکھنے کے مولوی صاحب سے خواہشمند ہوئے مگر مولوی صاحب چونکہ بندہ فرمان حضرت اقدس جناب مرزا صاحب تھے بغیر اجازت اپنے امام و مرشد کے کچھ جواب نہ دے سکے۔عمائد شہر کی مسافر نوازی اور مہمانداری کا ہم سب لوگ اس وقت بھی شکریہ ادا کرتے تھے اور اب بھی ایک شکر یہ بھرے دل کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو ہمیشہ ایسے دینی کاموں اور نیک مشوروں کی شرکت اور امداد کی توفیق دے کر اپنے حفظ وامان میں رکھے۔آمین جنڈیالہ کا سفر جلسہ مناظرہ سے فراغت پا کر حضرت قریباً ایک ہفتہ امرت سر میں مقیم رہے۔چونکہ آپ کی شہرت امرت سر کے گردو جوانب میں دور دور تک پھیل گئی تھی اور خصوصاً قصبہ جنڈیالہ کے ساکنین بلحاظ اس خصوصیت کے جو عیسائیوں کی بحث کے ساتھ ان کو تھی اور درحقیقت وہی محرک اس عظیم الشان انسان یعنی حضرت مقدس کے امرت سر میں آنے کے ہوئے تھے۔ان کی طرف سے محمد بخش صاحب پانڈہ نے درخواست کی کہ ساکنین جنڈیالہ کی غالب آرزو ہے کہ آپ ایک دن کے واسطے قصبہ جنڈیالہ میں تشریف لے چلیں تا کہ مشتاقان زیارت جناب کے ارشادات سے