حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 224
حیات احمد ۲۲۴ جلد چهارم حاجی صاحب اور خواجہ صاحب مولوی صاحبان کی اس حرکت سے کشیدہ خاطر تو بہت ہوئے اور ان کو ثابت ہو گیا کہ ان مولویوں کے پاس سوائے بے ثبوت افتراؤں کے اور کوئی دلیل نہیں مولوی صاحبان کی اس کنارہ کشی سے بھی شہر پر بہت اثر پڑا۔شیخ غلام حسین صاحب رئیس اعظم و آنریری مجسٹریٹ اس بارہ میں خصوصاً قابل شکریہ ہیں۔انہوں نے اپنے اقتدار سے ملاؤں کی بیجا ایذا رساں کوششوں کو روکا اور مہذبانہ انسانیت کے طریق سے مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے رفع ہو نیکی کوشش کی۔مگر افسوس ہے کہ امرتسر کے ملا ، شیخ صاحب موصوف کی کسی تجویز پر بھی رضامند نہ ہوئے اور اپنے بے ہودہ اور غلط افتراؤں پر جمے رہنے سے رؤساء شہر کو اپنے اوپر بدظن کرلیا حاجی صاحب اور خواجہ صاحب نے اکثر وعظ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے بڑے بڑے مجمع میں کرائے اور لیکچر بھی دلائے۔جس سے حضرت مولوی صاحب کے تجر علمی اور وسیع معلومات کا نکات قرآن کے بیان کرنے اور بعض بعض مقامات قرآن مجید کی نہایت لطیف تفسیر کرنے سے یقین کامل ہو گیا۔اور حضرت مولوی صاحب موصوف امرتسر میں ہر ایک وضیع و شریف کی نظر میں نہایت معزز اور قابل وجود ثابت ہونے لگ گئے۔خصوصاً آخری دو راتوں میں جو موجبات تکفیر کی بیخ کنی پر جو مولویوں نے بیجا ضد و تعصب کے سبب سے مشہور کر رکھے تھے۔مولوی صاحب موصوف نے نہایت شرح وبسط سے بیان کیا اس نے تو عموماً حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کے وجود کو عام و خاص لوگوں کی نظر میں ایک نہایت پاکباز بزرگ و قابل ادب وجود اعتقاد کرا دیا۔یہ ہر دو وعظ خاص اپنے اہتمام میں حاجی میرمحمود صاحب نے اپنے طویلہ کے کوٹھوں کی چھتوں پر کرائے بہت سے لوگ جمع ہوتے تھے۔روشنی کا انتظام اپنے اپنے موقعہ پر ضرورت کے لحاظ سے عمدہ تھا۔دریاں بچھائی جاتی تھیں ایک طرف ٹھنڈے پانی کا انتظام بھی موجود رہتا تھا۔پانی پلانے والے آدمی الگ مقرر تھے۔ایک ایک بجے رات تک برابر یہ وعظ ہوتا رہتا تھا۔سوائے ان دو وعظوں کے اور لیکچر اور وعظ بھی مختلف موقعوں پر مولوی صاحب موصوف کے ہوئے۔مثلاً مسجد میاں خیر الدین صاحب مرحوم میں جمعہ کے دن بعد نماز میاں جان محمد صاحب