حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 220 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 220

حیات احمد ۲۲۰ جلد چهارم (۵) طرز بیان و لحاظ آداب مناظره و آداب جلسه حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کی متانت اور سنجیدگی اور عبارت کی صفائی اور بیان کی سادگی ظاہر ہے۔نہایت مؤدبانہ انداز سے بیان تحریر کراتے۔برعکس اس کے فریق ثانی کی لطیفه بازی عبارت غیر مسلسل جواب ادھورہ اور ناکافی اور پھر طرز ادائے بیان تمسخرانہ جو ناز کے ساتھ خاص چہرہ کی بناوٹ اور ہاتھوں کے انداز دکھلانے سے ظاہر ہوتا تھا۔اور پھر بیقراری اور اضطراب اور بات بات پر ادہر ادہر کے معاونوں کی لقمہ دہی سے صاف معلوم ہوتا ہے۔کہ غلبہ کس کا ہے۔اس میں نتیجہ فتح کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔اگر چہ عیسائی صاحبان نے رات دن کی کمیٹیاں کر کے اپنی مجموعی طاقت صرف کردی اور ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب کو اپنے ساختہ پر داختہ سے خوب مدد دی۔(۶) اہل جلسہ کی توجہ اور طریق بحث سے لذت اٹھانا حضرت مرز اصاحب کے رفقاء کی رغبت کامل تھی مصروفیت خاص سے ہمہ تن گوش ہوتے تھے۔دلوں کو خاص تعلق تھا۔ہر ایک بیان کے سننے کے شائق رہتے تھے۔برخلاف اس کے عیسائی صاحبان کی بے رغبتی جو خود ان کے عدم استقلال اور بار بار کی مایوسی کے افعال و اقوال سے ظاہر ہوتی تھی۔آپس میں نا اتفاقی گھر میں پھوٹ اپنے وکیل پر اطمینان نہیں۔نتیجہ یہ کہ مسلمانوں کی فتح۔(۷) آخری نتیجہ اور کامیابی سب فیصلوں سے بڑھ کر فیصلہ۔سب فتوحات سے بڑھ کر فتح۔سب کامیابوں سے بڑھ کر کامیابی۔خود قادر مطلق خدا کا فیصلہ۔اس کی طرف سے فتح کی بشارت۔کامیابی کی سچی امید۔کامل پیشگوئی کا اظہار۔حریف مقابل کی موت۔ہادیہ کی سزا۔اس سے بڑھ کر اور کیا مفید نتیجہ کسی