حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 221
حیات احمد ۲۲۱ جلد چهارم غالب کے حق میں ہو سکتا ہے۔بڑی عظیم فتح بڑی بھاری کامیابی۔اہل اسلام کی منادی ہندوستان و پنجاب کے عیسائیوں پر۔ان امور ہفت گانہ کے نہایت وضاحت سے ثابت ہو جانے کے بعد پھر بھی اگر یہ سوال ہو کہ اس جلسہ بحث میں کیا خصوصیت تھی تو اس کا جواب شاید حیرانی کے ساتھ سوال کرنے والے کا منہ دیکھنا ہوگا زیادہ اطمینان خاطر کے لئے پھر بھی عرض کرتے ہیں کہ جس طریق استدلال اور اصول شرطیہ سے عیسائیوں کے مقابل حضرت مقدس مرزا صاحب نے ایک خاص انداز سے اس بحث کو اٹھایا ہے۔ایسا فریق ایسے اصول شرطیہ ایسا انداز خاص کسی مباحثہ میں جو آج تک عیسائیوں کے ساتھ ہو چکے ہیں دکھا دو اول تو ایسے ترتیب وار اور مسلسل مضامین کا ایسی مجموعی صداقت سے پیدا ہونا بھی محال ہے۔پھر خاص تعلیم قرآن کو حجت ٹھہرا کر اسی سے دعویٰ اور دلایل اور اسی سے موت پیدا کر کے حریف کے کل منصوبوں کو معقول طور پر خاک میں ملا دینا کس بحث میں پایا جاتا ہے۔تو تو میں میں کی بحثیں تو بہت ہوتی رہیں۔مگر دعویٰ کے ساتھ کہ مامور من اللہ ہوکر آیا ہوں اور میری ہی فتح ہے۔ایسے پُر امن جلسہ میں لگا تار صداقتوں کو معقولی اور مجزا نہ دلائل سے پیش کرنا اور پھر اخیر پر خدائی فیصلہ کی منادی حریف مقابل کو سنا دینا۔اور فتح کا نقارہ بجا کر جلسہ ء بحث سے اٹھنا کبھی کسی کو نصیب ہوا ہے۔اے عزیز مسلمانو یہ بھی کامل نشان ہے۔یہ بھی کامل حجت ہے۔اور یہ ہی کامل فتح ہے۔جس کی تم کو ہم کو ہر ایک حق پرست کو ضرورت ہے جا گو اور وقت کو پہچانو اور اس وقت کے امام کو سمجھو اور انسانی طاقت سے بالا تر پیشگوئی کے ہیبت ناک مضمون کو دیکھو جو خدا کی شان اور اس کے بچے رسول محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیمات کے حق میں ایک گستاخانہ اور بے ادبانہ پیش آنے والے نامبارک وجود پر نشان آسمانی کی صورت میں قائم ہوئی ہے۔چائے کی دعوت اور حضرت کا انکار ڈاکٹر کلارک صاحب نے اسی روز چائے کی دعوت پیش کی مگر حضرت نے اس دعوت کو رد کر دیا اور فرما دیا " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو بے ادبی کرتے ہیں اور نعوذ باللہ آپ کو جھوٹا