حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 202
حیات احمد جلد چهارم ہے۔اس لئے اس جگہ اس قدر اشارہ کافی ہے۔چونکہ حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کا منشاء اس مناظرہ کو انجام تک پہنچانے کا تھا انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی درخواست کو منظور کر لیا۔اور ان کو موقع دیا کہ ایک دن کے لئے وہ بجائے مسٹر عبد اللہ آکنتم صاحب کے جواب دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔۲۹ مئی ۱۳ ء کا دن صبح کا وقت ڈاکٹر صاحب کو ملا۔پہلے سے ہی نوٹ کئے ہوئے پر چہ کو آپ ہاتھ میں لے کر منصب میر مجلسی سے علیحدہ ہوکر حریف مقابل کے نیچے آ بیٹھے اور بجائے ان کے پادری صاحب قائمقام میر مجلس مقرر ہو گئے۔ڈاکٹر صاحب نے کیا لکھا یا کیا کہا اس کی بابت کسی قدر اس اشتہار کو نوٹ کی عبارت کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے جو عیسائی صاحبان کی جھوٹی فتح مشہور کرنے والے اشتہار کے جواب میں محمد اسماعیل ساکن جنڈیالہ نے مسلمانانِ جنڈیالہ کی طرف سے دیا ہے۔وَهُوَ هذَا۔اب ۲۹ کے دن پھر جلسہ شروع ہوا اور جیسا کہ امید تھی مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب تو اپنے کوٹھی میں سر چھپائے بیٹھے رہے اور ان کی جگہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب پیش ہوئے جنہوں نے اپنی ذاتی لیاقت یا شہرت یا یوں کہو کہ اپنی پوری سادگی اور بلا ہت کے خوب ہی جو ہر دکھلائے اور سچ تو یہ ہے کہ جو کام ڈاکٹر صاحب نے کیا وہ انہیں کا حصہ تھا۔مسٹر عبد اللہ آتھم سے ایسا ہر گز نہ ہو سکتا تھا۔مسٹر موصوف کو پھر بھی اس قدر خرافات تولنے سے کچھ نہ کچھ شرم آہی جاتی اور وہ اس قدر بہتان اور سفید جھوٹ باندھنے میں کسی قدر حیا کو تو ضرور کام میں لاتے مگر ڈاکٹر صاحب کو اس کی کیا پرواہ تھی۔یہ انہیں کا دل گردہ تھا کہ اتنے بڑے مجمع میں اس طرح رو در رو بیٹھ کر انہوں نے اس قدر جھوٹ سے کام لیا۔مگر ایک بات ان کی تائید میں بھی ہے کہ ڈاکٹر صاحب اس مباحثہ کے محرک و بانی ہوئے تھے۔عجب نہیں کہ دیگر عیسائی پادریوں نے انہیں اس کارروائی پر سرزنش کی ہو جس کا لازمی نتیجہ مسیحی دین کی قلعی کھلنا تھا۔اب وہ چھیڑ تو بیٹھے ہی تھے انہیں پیچھے چھڑانا مشکل ہو گیا۔اور بے چاروں نے ہاتھ پاؤں تو بہت مارے مگر رہائی نہ ہو سکی۔اب اپنا گھر تو انہیں دو ہی دن میں نظر آ گیا۔اور دو ہی دن میں معلوم ہوگیا تھا کہ جس عمارت پر وہ ناز کر رہے ہیں اس کی بنا تو ریت پر ہے۔آج نہ گری کل گری۔دنیا