حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 203
حیات احمد جلد چهارم کیا کہے گی ہم جنس کیا کہیں گے عیسائی بھائی تو مارے طعنوں کے ناک میں دم کر دیں گے۔کچھ حیلہ تھا تو یہی کہ کذب سے کام لیا جائے۔زبان بس میں تھی جدھر چاہا اُدھر پھیر لیا۔یوں انجیل میں از خود تراشیدہ دعووں کے دلائل نہیں تو نہ سہی دل میں تو بہت کچھ بخار بھرا تھا جو جی میں آیا لکھا دیا کہ مرزا صاحب نے کچھ جواب نہیں دیا۔انہیں امید تھی کہ سوال تو ختم ہو ہی چکا ہے۔مرزا صاحب کو تو اس کے جواب میں کچھ لکھانا نہیں ہے۔پس جھوٹ سے کام چل جائے گا۔مگر انہیں دوسرے دن ہی معلوم ہو گیا کہ ان کا خیال خام اور ان کا زعم فاسد تھا۔مرزا صاحب نے دوسرے دن کفارہ کی تردید کرتے ہوئے اس غیر معقول اور طفلانہ مضمون کی ایسی دھجیاں اڑائیں کہ تمام عیسائی چلا اٹھے۔مگر خیر یہ پیالہ تو انہیں پینا ہی پڑا۔مگر جب اس طرح کی حیلہ سازی سے کام نہ نکلا تو ان شکم بندہ اور ڈیوٹی پورا کرنے والے عیسائیوں نے ایک اور چالا کی کی کہ ایک عیسائی کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کی اس آخری پُر دروغ مگر بے فروغ تحریر کو شائع کر دیا اور نہایت بے باکی سے اس پر لکھ دیا کہ یہ گویا آخری فیصلہ ہے اور مختلف مقامات لاہور وامرت سر وغیرہ میں چوری چوری آدمی بھیج کر اشتہار پھیلایا اور یوں اپنی دائمی عادت کے مطابق لوگوں کو دھوکا دینا چاہا۔اگر عیسائیوں کا وہ جواب ایسا ہی فیصلہ کرنے والا تھا اور مرزا صاحب سے بزعم ان کے کچھ جواب نہیں بن پڑا تھا تو کیوں مرزا صاحب کا وہ کمزور پر چہ ساتھ ہی چھاپ کر شائع نہ کر دیا تا کہ دقیق النظر مقابلہ کرنے والے بالمقابل قوی اور مدلل مضمون کی پوری داد دیتے۔مگر اصل یہ ہے اور حق امر یہ ہے کہ مرزا صاحب کا وہ پرچہ جس پر اس نا معقول جواب کی نسبت سادہ دل عیسائیوں نے افتخار کیا نہایت ہی پر زور اور حقا لا جواب ہے اس لئے عیسائیوں نے جنہیں اپنی کمزوری کا دلی شعور تھا اس کے ساتھ چھاپنے کی جرات نہ کی کیونکہ اس تقابل سے ہر ایک ذی عقل کو بآسانی فیصلہ حق کا موقعہ مل سکتا تھا۔مگر جس موت سے وہ بھاگتے تھے وہ تو انہیں بہر حال پیش آہی گئی انتھی۔ملخصاً ڈاکٹر صاحب کا ۲۹ رمئی ۹۳ ء کا بیان الگ طور پر سالم ایک اشتہار کی صورت میں نکل جانا بے شک ہر ایک انصاف پسند آدمی خیال کر سکتا ہے کہ دیانت داری سے بعید ہے بھلا ایک مباحثہ جس کی معیاد