حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 201
حیات احمد ۲۰۱ جلد چهارم معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ہمیشہ دیہات میں اپنا دل خوش کرنے کے لئے بے ثبوت کہانیوں کے سنانے کا سابقہ صرف دہقانوں یا ادنی عقل کے پنجابیوں سے پڑتا رہا ہے۔کسی شائستہ مجلس میں ذی شعور اور معقول طور پر گفتگو سننے کا اتفاق نہیں ہوا۔میں میں اور تو تو کی بحث کو ڈاکٹر صاحب غالباً بہت پسند کرتے ہیں کہ جس میں بے چارے ناواقف کار ادنی درجہ کے لوگوں کو دھوکہ دینے کا اور دام میں پھنسانے کا انہیں موقعہ ملتا ہے۔تو پھر ان معقول دلائل اور باریک ثبوتوں کے بھرے ہوئے مضامین کو وہ کیوں کر سمجھ سکتے ہیں جب ان کا ذہن نہیں لڑتا تو ان کو اس میں کیا لذت ملتی۔ڈاکٹر صاحب تو چٹ پٹ دو چار باتوں کے ہیر پھیر کرنے سے فتح کا نقارہ بجانا جانتے ہیں۔ان کی اور ان کے عیسائی بھائیوں کی آسائش پسند طبیعت کب اجازت دیتی تھی کہ وہ صبح سے لے کر ۱۲۔ابجے تک تحقیقات مذہبی میں مصروف ہوتے اور ایک شائستہ پابندی کے ساتھ گٹھ کر ایک جگہ بیٹھتے ان کی تو عادت ہے کہ کبھی دل چاہا تو دو چار باتیں ٹھنڈی ٹھنڈی عام جاہلوں میں کھڑے ہو کر سنا آئے۔یا آٹھویں دن اتوار کی پر پیچ ہو آئے۔کامل ۱۵ دن تک عیش و آرام سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک جگہ قید ہو کر بیٹھے رہنا مشکل ہو گیا۔ان کو اس سنجیدہ اور متین طریق مناظرہ میں کیوں لذت ملتی۔ہاں ایک دن ڈاکٹر صاحب کو خوب لذت آئی اور اس دن وہ خوش بھی بہت ہوئے ہوں گے۔کیوں کہ ۲۹ مئی ۹۳ ء کا دن ان کے منشاء کے موافق ان کو ہاتھ آگیا۔جس کی بابت یقین کیا جاتا ہے کہ وہ خود دانستہ اپنے دل کا بخار نکالنے کے واسطے اس موقعہ کو ہاتھ میں لائے۔اچھے خاصے بھلے چنگے تندرست ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب کو بیمار بنا دیا۔۲۵ رمئی ۱۳ ء کو ڈپٹی صاحب نے اپنی معذوری بسبب مرض اسہال کے شروع کی۔یہاں تک کہ گھر سے لکھا لکھا یا مضمون کسی دوسرے آدمی کے ذریعہ لکھوائے جانے کی درخواست کی اور خود جواب نویسی سے اعراض کیا۔یہ دن تو ایسا خلاف معمول آیا۔اور ڈاکٹر صاحب نے وہ ضد اور سختی دکھلائی کہ اگر حضرت مقدس اپنی کریم النفسی سے بجائے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے ان کو حریف مباحث ایک دن کے واسطے نہ مانتے تو مناظرہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔یہ جھگڑا روئداد مطبوعہ میں درج