حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 167
حیات احمد ۱۶۷ جلد چهارم کریں گے کہ اے ہمارے خُدا اگر ہم دجل پر ہیں تو فریق مخالف کے نشان سے ہماری ذلت ظاہر کر اور اگر ہم حق پر ہیں تو ہماری تائید میں نشان آسمانی ظاہر کر کے فریق مخالف کی ذلت ظاہر فرما اور اس دُعا کے وقت دونوں فریق آمین کہیں گے اور ایک سال تک اسکی میعاد ہوگی اور فریق مغلوب کی سزا وہ ہوگی جو اوپر بیان ہو چکی ہے۔اور اگر یہ سوال ہو کہ اگر ایک سال کے عرصہ میں دونوں طرف سے کوئی نشان ظاہر نہ ہو یا دونوں طرف سے ظاہر ہو تو پھر کیونکر فیصلہ ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ راقم اس صورت میں بھی اپنے تئیں مغلوب سمجھے گا اور ایسی سزا کے لائق ٹھہرے گا جو بیان ہو چکی ہے چونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اور فتح پانے کی بشارت پاچکا ہوں۔پس اگر کوئی عیسائی صاحب میرے مقابل آسمانی نشان دکھلاویں یا میں ایک سال تک دکھلا نہ سکوں تو میرا باطل پر ہونا کھل گیا اور اللہ جلّ شانہ کی قسم ہے کہ مجھے صاف طور پر اللہ جل شانہ نے اپنے الہام سے فرما دیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بلا تفاوت ایسا ہی انسان تھا جس طرح اور انسان ہیں مگر خدا تعالیٰ کا سچا نبی اور اُس کا مرسل اور برگزیدہ ہے اور مجھ کو یہ بھی فرمایا کہ جو مسیح کو دیا گیا وہ بمتابعت نبی علیہ السلام تجھ کو دیا گیا ہے اور تو مسیح موعود ہے اور تیرے ساتھ ایک نورانی حربہ ہے جو ظلمت کو پاش پاش کرے گا اور يَكْسِرُ الصَّليب کا مصداق ہوگا پس جبکہ یہ بات ہے تو میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں سو آج میں ان تمام باتوں کو قبول کر کے اشتہار دیتا ہوں۔اب بعد شائع ہونے اس اشتہار کے مناسب اور واجب ہے کہ ڈاکٹر صاحب بھی اس قدر اشتہار دے دیں کہ اگر بعد مباہلہ مرزا غلام احمد کی تائید میں ایک سال کے اندر کوئی نشان ظاہر ہو جائے جس کے مقابل پر اسی سال