حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 168 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 168

حیات احمد ۱۶۸ جلد چهارم کے اندر ہم نشان دکھلانے سے عاجز آجائیں تو بلا توقف دین اسلام قبول کر لیں گے ور نہ اپنی تمام جائداد کا نصف حصہ دین اسلام کی امداد کی غرض سے فریق غالب کو دے دیں گے اور آئندہ اسلام کے مقابل پر کبھی کھڑے نہیں ہونگے۔ڈاکٹر صاحب اس وقت سوچ لیویں کہ میں نے اپنی نسبت بہت زیادہ سخت شرائط رکھی ہیں اور انکی نسبت شرطیں نرم رکھی گئی ہیں یعنی اگر میرے مقابل پر وہ نشان دکھلا ئیں اور میں بھی دکھلاؤں تب بھی بموجب اس شرط کے وہی بچے قرار پائیں گے۔اور اگر نہ میں نشان دکھلا سکوں اور نہ وہ ایک سال تک نشان دکھلا سکیں تب بھی وہی بچے قرار پائیں گے۔اور میں صرف اُس حالت میں سچا قرار پاؤں گا کہ میری طرف سے ایک سال کے اندر ایسا نشان ظاہر ہو جس کے مقابلہ سے ڈاکٹر صاحب عاجز رہیں اور اگر ڈاکٹر صاحب بعد اشاعت اس اشتہار کے ایسے مضمون کا اشتہار بالمقابل شائع نہ کریں تو پھر صریح ان کی گریز متصور ہوگیا اور ہم پھر بھی انکی منقولی ومعقولی بحث کے لئے حاضر ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اس بارے میں یعنی نشان نمائی کے امر میں اپنا اور اپنی قوم کا اسلام کے مقابل پر عاجز ہونا شائع کر دیں یعنی یہ لکھدیں کہ یہ اسلام ہی کی شان ہے کہ اس سے آسمانی نشان ظاہر ہوں اور عیسائی مذہب ان برکات سے خالی ہے۔میں نے سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے دوستوں کے روبرو یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم مباحثہ تو کریں گے مگر یہ مباحثہ فرقہ احمدیہ سے ہوگا نہ مسلمانانِ جنڈیالہ سے سو ڈاکٹر صاحب کو واضح رہے کہ فرقہ احمد یہ ہی سچے مسلمان ہیں جو خدا تعالیٰ کے کلام میں انسان کی رائے کو نہیں ملاتے اور حضرت مسیح کا درجہ اسی قدر مانتے ہیں جو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى (حجۃ الاسلام ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۴ تا ۵۰ )