حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 166 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 166

حیات احمد جلد چهارم کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان چاہیں اور ان نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کی میعاد قائم ہو پھر جس فریق کی تائید میں کوئی آسمانی نشان ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو جس کا مقابلہ فریق مخالف سے نہ ہو سکے تو لازم ہوگا کہ فریق مغلوب اس فریق کا مذہب اختیار کرلے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے آسمانی نشان کے ساتھ غالب کیا ہے اور مذہب اختیار کرنے سے اگر انکار کرے تو واجب ہوگا کہ اپنی نصف جائداد اس بچے مذہب کی امداد کی غرض سے فریق غالب کے حوالہ کر دے یہ ایسی صورت ہے کہ اس سے حق اور باطل میں بکلی فرق ہو جائے گا کیونکہ جب ایک خارق نشان کے مقابل پر ایک فریق بالمقابل نشان دکھلانے سے بکلی عاجز رہا تو فریق نشان دکھلانے والے کا غالب ہونا بکلی کھل جائے گا اور تمام بحثیں ختم ہو جائیں گی اور حق ظاہر ہو جائیگا لیکن ایک ہفتہ سے زیادہ گزرتا ہے جو آج تک جو۳ رمئی ۱۹۳ ء ہے ڈاکٹر صاحب نے اس خط کا کچھ بھی جواب نہیں دیا لہذا اس اشتہار کے ذریعہ سے ڈاکٹر صاحب اور انکے تمام گروہ کی خدمت میں التماس ہے کہ جس حالت میں انہوں نے اس مباحثہ کا نام جنگ مقدس رکھا ہے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں قطعی فیصلہ ہو جائے اور یہ بات کھل جائے کہ سچا اور قادر خدا کس کا خدا ہے تو پھر معمولی بحثوں سے یہ امید رکھنا طمع خام ہے اگر یہ ارادہ نیک نیتی سے ہے تو اس سے بہتر اور کوئی بھی طریق نہیں کہ اب آسمانی مدد کے ساتھ صدق اور کذب کو آزمایا جائے اور میں نے اس طریق کو بدل و جان منظور کر لیا ہے اور وہ طریق بحث جو منقولی اور معقولی طور پر قرار پایا ہے گو میرے نزدیک چنداں ضروری نہیں مگر تا ہم وہ بھی مجھے منظور ہے لیکن ساتھ اسکے یہ ضروریات سے ہوگا کہ ہر یک چھ دن کی میعاد کے ختم ہونیکے بعد بطور متذکرہ بالا مجھ میں اور فریق مخالف میں مباہلہ واقع ہوگا اور یہ اقرار فریقین پہلے سے شائع کر دیں کہ ہم مباہلہ کریں گے یعنی اس طور سے دعا