حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 163 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 163

حیات احمد ۱۶۳ جلد چهارم تب ڈاکٹر صاحب اور میرے دوستوں میں جو میری طرف سے وکیل تھے کچھ گفتگو ہو کر بالا تفاق یہ بات قرار پائی کہ یہ مباحثہ بمقام امرت سر واقع ہو اور ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اس جنگ کا پہلوان مسٹر عبد اللہ آتھم سابق اکسٹرا اسٹنٹ تجویز کیا گیا اور یہ بھی اُن کی طرف سے تجویز کیا گیا کہ فریقین تین تین معاون اپنے ساتھ رکھنے کے مجاز ہونگے اور ہر ایک فریق کو چھ چھ دن فریق مخالف پر اعتراض کرنے کے لئے دئے گئے اس طرح پر کہ اول چھ روز تک ہمارا حق ہوگا کہ ہم فریق مخالف کے مذہب اور تعلیم اور عقیدہ پر اعتراض کریں مثلاً۔حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور اُن کے منجی ہونے کے بارہ میں ثبوت مانگیں یا اور کوئی اعتراض جو مسیحی مذہب پر ہو سکتا ہے پیش کریں ایسا ہی فریق مخالف کا بھی حق ہوگا کہ وہ بھی چھ روز تک اسلامی تعلیم پر اعتراض کئے جائیں۔اور یہ بھی قرار پایا کہ مجلسی انتظام کے لئے ایک ایک صدر انجمن مقرر ہو جو فریق مخالف کے گروہ کو شور و غوغا اور ناجائز کارروائی اور دخل بیجا سے رو کے اور یہ بات بھی باہم مقرر اور مسلم ہو چکی کہ ہر یک فریق کے ساتھ پچاس سے زیادہ اپنی قوم کے لوگ نہیں ہونگے اور فریقین ایک سو ٹکٹ چھاپ کر پچاس پچاس اپنے اپنے آدمیوں کے حوالہ کریں گے اور بغیر دکھلانے ٹکٹ کے کوئی اندر نہیں آسکے گا اور آخر پر ڈاکٹر صاحب کی خاص درخواست سے یہ بات قرار پائی کہ یہ بحث ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہونی چاہیئے انتظام مقام مباحثہ اور تجویز مباحثہ ڈاکٹر صاحب کے متعلق رہا اور وہی اس کے ذمہ دار ہوئے۔اور بعد طے ہونے ان تمام مراتب کے ڈاکٹر صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کی اس تحریر پر دستخط ہو گئے جس میں یہ شرائط بہ تفصیل لکھے گئے تھے اور یہ قرار پایا کہ ۱۵ رمئی ۱۸۹۳ء تک فریقین ان شرائط مباحثہ کو شائع کر دیں اور پھر میرے دوست قادیان میں پہنچے اور چونکہ ڈاکٹر صاحب نے اس مباحثہ کا نام جنگ مقدس رکھا ہے