حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 164 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 164

حیات احمد ۱۶۴ جلد چهارم اس لئے ان کی خدمت میں بتاریخ ۲۵ /۱ اپریل ۱۸۹۳ء کو لکھا گیا کہ وہ شرائط جو میرے دوستوں نے قبول کئے ہیں وہ مجھے بھی قبول ہیں لیکن یہ بات پہلے سے تجویز ہو جانا ضروری ہے کہ اس جنگ مقدس کا فریقین پر اثر کیا ہوگا۔اور کیونکر کھلے کھلے طور پر سمجھا جائیگا کہ درحقیقت فلاں فریق کو شکست آ گئی ہے کیونکہ سالہاسال کے تجربہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معقولی اور منقولی بحثوں میں گوکیسی ہی صفائی سے ایک فریق غالب آجائے مگر دوسرے فریق کے لوگ کبھی قائل نہیں ہوتے کہ وہ درحقیقت مغلوب ہو گئے ہیں بلکہ مباحثات کے شائع کرنے کے وقت اپنی تحریرات پر حاشیے چڑھا چڑھا کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنا ہی غالب رہنا ثابت ہو اور اگر صرف اسی قدر منقولی بحث ہو تو ایک عظمند پیشگوئی کر سکتا ہے کہ یہ مباحثہ بھی انہیں مباحثات کی مانند ہو گا جو ابتک پادری صاحبوں اور علماء اسلام میں ہوتے رہے ہیں بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ایسے مباحثہ میں کوئی بھی نئی بات معلوم نہیں ہوتی پادری صاحبوں کی طرف سے وہی معمولی اعتراضات ہوں گے کہ مثلاً اسلام زور شمشیر سے پھیلا ہے اسلام میں کثرت ازدواج کی تعلیم ہے۔اسلام کا بہشت ایک جسمانی بہشت ہے وغیرہ وغیرہ۔ایسا ہی ہماری طرف سے بھی وہی معمولی جواب ہونگے کہ اسلام نے تلوار اُٹھانے میں سبقت نہیں کی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اُٹھائی ہے اور اسلام نے عورتوں اور بچوں اور راہبوں کے قتل کرنے کیلئے حکم نہیں دیا بلکہ جنہوں نے سبقت کر کے اسلام پر تلوار کھینچی وہ تلوار سے ہی مارے گئے۔اور تلوار کی لڑائیوں میں سب سے بڑھ کر تو ریت کی تعلیم ہے جس کی رو سے بیشمار عورتیں اور بچے بھی قتل کئے گئے جس خدا کی نظر میں وہ بے رحمی اور سختی کی لڑائیاں بُری نہیں تھیں بلکہ اُس کے حکم سے تھیں تو پھر نہایت بے انصافی ہوگی کہ وہی خدا اسلام کی ان لڑائیوں سے ناراض ہو جو مظلوم ہونے کی حالت میں یا امن قائم