حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 139
حیات احمد ۱۳۹ جلد چهارم مقامات کے انچارج وہ مرتد مسلمان تھے جنہوں نے بپتسمہ لے لیا تھا۔بیاس دراصل ایک قسم کا تو عیسائیوں کے لئے تربیت گاہ تھا۔دوسری جگہ سے ایسے لوگ لا کر وہاں رکھے جاتے اور جنڈیالہ کے مسلمانوں میں ایک قسم کی بیداری تھی اور وہ عیسائیوں کا مقابلہ کرتے رہتے جس کی وجہ سے عیسائیوں کو اپنے مقاصد میں ناکامی ہوتی رہی۔ان دنوں میں امرتسر کے میڈیکل مشن کے انچارج ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک تھے۔یہ مشن دراصل پادری مارٹن کلارک نے (جس کو عام طور پر بڑھا یا بڑا کلارک کہتے تھے ) ۱۸۸۲ء میں قائم کیا تھا۔اور امرتسر کا میڈیکل مشن غدر کے قریب زمانہ میں قائم ہو چکا تھا۔ہنری مارٹن کلارک انگریز نژاد نہ تھا۔جیسا کہ بعض لوگوں نے غلطی سے انہیں یوروپین سمجھا۔ہنری مارٹن کلارک در اصل ایک سرحدی یتیم مسلمان تھا۔جس طرح مسٹر وار برٹن پنجاب پولیس کے ممتاز اور مشہور افسر تھے۔یہ دونوں بچپن میں عیسائیوں کے ہاتھ آگئے اور ان کی تعلیم وتربیت میں مادی اور علمی ترقی کی۔مارٹن کلارک بوڑھے کلارک کے پاس رکھا گیا اور اس نے اس کی اپنے بیٹے کی طرح پرورش کی اور اپنا نام اس کو دیا اور اس کی تعلیم پر کافی روپیہ خرچ کیا یہاں تک کہ اڈنبرا میں اعلیٰ درجہ کی طبی ڈگری حاصل کی اور بوڑھے کلارک نے اسے امرتسر میں اپنے مشن کا اپنی جگہ انچارج بنا دیا۔مارٹن کلارک کی شکل وصورت لب ولہجہ پٹھانوں کا سا تھا اور بھی چند پٹھان اس مشن سے وابستہ تھے اور ضلع امرتسر کے مختلف مشنوں میں جو مرتد مسلمان مشن کا کام کرتے تھے مجھے ان سب سے بے تکلف واقفیت تھی۔بلکہ مباحثہ میں شریک ہونے والے یعنی کسی نہ کسی نوعیت سے حصہ لینے والے پادریوں سے بے تکلفی تھی۔بجز ایک شخص عبد اللہ کے ( جن کو میرے استاد شیخ الہ دیا مرحوم فرعون کی گائے کہتے تھے ) اور یہ شخص عبرانی کا ماہر سمجھا جاتا تھا اور اسی غرض سے وہ آتھم صاحب کے معاونین میں شریک تھا۔مختصر یہ کہ اس جنڈیالہ مشن میں عیسائیوں کا مقابلہ وہاں کی نوجوان مسلم پارٹی کرتی تھی۔اور یہ پارٹی میاں محمد بخش پانڈہ (مرحوم) کی زیر قیادت عیسائی منادوں کا ناطقہ بند کرتی رہتی تھی۔