حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 140
حیات احمد ۱۴۰ جلد چهارم میاں محمد بخش پانڈہ میاں محمد بخش پانڈہ کوئی بڑے تعلیم یافتہ نہ تھے مگر ان کے دل میں اسلام کے لئے غیرت تھی اور وہ عیسائیوں کے رد کی کتابیں جمع رکھتے اور نوجوانوں کو عیسائیوں پر اعتراض کرنے کے لئے تیار کرتے تھے وہ اس زمانہ کے متعارف علم بہی کھاتہ وغیرہ کے ماہر تھے۔اور اس پیشہ کے لوگ پانڈہ کہلاتے تھے۔خود میرے والد بزرگوار رحمتہ اللہ علیہ بھی ایک ممتاز پانڈہ تھے۔اور قادیان کے اکثر پرانے ہندوان کے شاگرد تھے۔بڑھامل، شرمپت رائے ، ملا وامل اور بنہوت خاندان ان کو خوب جانتے تھے۔اور اس وجہ سے بھی میرے ساتھ ایک ادب واخلاص سے پیش آتے تھے۔جنڈیالہ کے مقیم عیسائیوں نے جب اپنے مشن میں اس سد سکندری کو محسوس کیا تو انہوں نے سوچا کہ ایک عام مباحثہ ان سے کیا جاوے۔اور یہ تجویز مارٹن کلارک کے مشورہ سے قرار پائی۔انہوں نے اتنا ہی سوچا تھا کہ اسلام پر اعتراض کئے جائیں اور لوگوں پر اثر ہوگا۔اس منصوبہ کے تحت انہوں نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف سے ایک مکتوب مباحثہ کے لئے پانڈہ محمد بخش صاحب کے نام لکھوایا۔اور وہ سمجھتے تھے کہ اس مباحثہ میں ان کی طرف سے کوئی مولوی نہیں آئے گا۔اس لئے کہ جنڈیالہ کے مسلمان مولوی صاحب کے مطالبات فیس ادا کرنے کے قابل نہیں۔علاوہ بر ایں اس نواح میں عیسائیوں کے ساتھ مباحثات کی دلچسپی عام طور پر مسلمانوں میں نہیں اور ان امور کے پیش نظر رکھنے میں عیسائیوں نے غلطی نہیں کھائی تھی۔دونوں امور ظاہر تھے۔امرتسر میں مولوی غلام نبی صاحب تاجر کتب عیسائیوں کے مقابلہ میں بعض تحریرات کے شائق ضرور تھے اور اس سلسلہ میں ان کا علم بھی کافی تھا۔مگر وہ اس قسم کے میدان میں آنے والے نہ تھے صرف دوکان پر بیٹھ کر گفتگو کا اکھاڑہ لگا سکتے تھے یا کبھی کبھار چھوٹا سا پمفلٹ یا رسالہ شوقیہ لکھ دیتے۔غرض عیسائیوں کو اپنے اس منصوبے میں سستی فتح کا کامل یقین تھا۔اور ان کے وہم میں بھی