حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 138 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 138

حیات احمد ۱۳۸ جلد چهارم اس طرح پر آپ نے اتمام حجت کا سلسلہ شروع کیا مگر عیسائی صاحبان نے یہ سمجھ کر کہ مخالف مسلمان حیات مسیح کا اقرار کر کے آپ سے مقابلہ کر رہے ہیں خاموشی اختیار کی اور اسی میں اپنا بھلا سمجھا اور ان کا بظاہر یہ فیصلہ عقلمندی پر مبنی تھا مگر افسوس مخالف مولویوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اس دکھ سے بے قرار ہو کر آپ نے فرمایا سے مسیح ناصری را تا قیامت زندہ سے فہمندر مگر مدفونِ یثرب را نه دادند این فضیلت را همه عیسائیان را از مقال خود مدد دادند آمد دلیری با پدید پرستاران میت را غرض زمانہ گزرتا گیا یہاں تک کہ اواخر اپریل ۱۸۹۳ء میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا موقع پیدا کر دیا جس سے کسر صلیب کے لئے خود عیسائیوں نے سامان کر دیا۔اور یہ موقع اسی جنگِ مقدس کے آغاز و انجام کا تھا۔میری خوش قسمتی میں تحدیث بالنعمت کے طور پر یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس جنگ مقدس میں اوّل سے آخر تک شریک رہنے کا موقعہ عطا فرمایا۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی ذَلِکَ۔اس لئے اس جنگ مقدس کے حالات کا میں ایک عینی شاہد ہوں۔ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔جنگ مقدس کی تقریب کیونکر پیدا ہوئی امرتسر میں سکاٹ لینڈ کا ایک سکاچ میڈیکل مشن تھا جس نے امرتسر کے دیہات میں اپنی شاخیں قائم کر رکھی تھیں ان میں سے جنڈیالہ، بیاس اور ویر کا کے مشن زیادہ مشہور تھے۔اور ان تمام ترجمہ لے یہ میچ ناصری کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہیں۔مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت نہیں دیتے۔سے انہوں نے اپنے عقیدہ سے تمام عیسائیوں کی مدد کی اسی وجہ سے مردہ پرستوں میں بھی دلیری آگئی۔