حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 120
حیات احمد ۱۲۰ جلد چهارم سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر و غیور کبھی اُس کو امن میں نہیں چھوڑتا۔اور اُس کی غیرت اُس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے اگر ان مولویوں کا دل تقویٰ کے رنگ سے کچھ بھی رنگین ہوتا اور خدا تعالیٰ کی عادتوں اور سنتوں سے ایک ذرہ بھی واقف ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ ایک مفتری کا اس قدر در از عرصہ تک افترا میں مشغول رہنا بلکہ روز بروز اس میں ترقی کرنا اور خدا تعالیٰ کا اس کے افتر اپر اس کو نہ پکڑنا بلکہ لوگوں میں اس کو عزت دینا دلوں میں اس کی قبولیت ڈالنا اور اس کی زبان کو چشمہ حقائق و معارف بنانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ جب سے خدا تعالیٰ نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے اس کی نظیر ہرگز نہیں پائی جاتی۔افسوس کہ کیوں یہ منافق مولوی خدا تعالیٰ کے احکام اور مواعید کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔کیا اُن کے پاس حدیث یا قرآن شریف سے کوئی نظیر موجود ہے کہ ایک خبیث طبع مفتری کو خدا تعالیٰ نہ پکڑے جو اُس پر افترا پر افترا باندھے اور جھوٹے الہام بنا کر اپنے تئیں خدا کا نہایت ہی پیارا ظاہر کرے اور محض اپنے دل سے شیطانی باتیں تراش کر اس کو عمد أخدا کی وحی قرار دیوے اور کہے کہ خدا کا حکم ہے کہ لوگ میری پیروی کریں اور کہے کہ خدا مجھے اپنے الہام میں فرماتا ہے کہ تو اس زمانہ میں تمام مومنوں کا سردار ہے حالانکہ اس کو کبھی الہام نہ ہوا ہو۔اور نہ کبھی خدا نے اس کو مومنوں کا سردار ٹھہرایا ہو اور کہے کہ مجھے خدا مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو ہی مسیح موعود ہے جس کو میں کسر صلیب کے لئے بھیجتا ہوں۔حالانکہ خدا نے کوئی ایسا حکم اس کو نہیں دیا اور نہ اس کا نام عیسی رکھا اور کہے کہ خدائے تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ مجھ سے تو ایسا ہے جیسا کہ میری توحید۔تیرا مقام قرب مجھ سے وہ ہے جس سے لوگ بے خبر ہیں۔حالانکہ خدا اس کو مفتری جانتا ہے۔اس پر لعنت بھیجتا ہے۔اور مردودوں اور مخذ ولوں کے ساتھ اس کا حصہ قرار دیتا ہے۔پھر کیا یہی خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ