حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 119
حیات احمد 119 جلد چهارم ۵ سے سچا ملہم سمجھتے اور میرے الہامات کو میرا ہی افترا یا شیطانی وساوس خیال نہ کرتے تو اس قدرست اور شتم اور ہنسی اور ٹھٹھا اور تکفیر اور بد تہذیب کے ساتھ پیش نہ آتے بلکہ اپنے ظنونِ فاسدہ کا حسن ظن کے غلبہ سے آپ فیصلہ کر لیتے کیونکہ کسی کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے یقین کے بعد وہ مشکلات ہر گز پیش نہیں آتیں کہ جو اُس حالت میں پیش آتی ہیں کہ انسان کے دل پر اس کے کا ذب ہونے کا خیال غالب ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے میری سچائی کے سمجھنے کے لئے بہت سے قرائن واضح ان کو عطا کئے تھے۔میرا دعویٰ صدی کے سر پر تھا۔میرے دعوی کے وقت میں خسوف کسوف ماہ رمضان میں ہوا تھا۔میرے دعوئی الہام پر پورے بیس برس گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔میری پیشگوئی کے مطابق خدا نے آتھم کو کچھ مہلت بھی دی اور پھر مار بھی دیا۔مجھ کو خدا نے بہت سے معارف اور حقائق بخشے اور اس قدر میرے کلام کو معرفت کے پاک اسرار سے بھر دیا کہ جب تک انسان خدائے تعالیٰ کی طرف سے پورا تائید یافتہ نہ ہو اس کو یہ نعمت نہیں دی جاتی لیکن مخالف مولویوں نے ان باتوں میں سے کسی بات پر غور نہیں کی۔سواب چونکہ تکذیب اور تکفیر ان کی انتہا تک پہنچ گئی اس لئے وقت آگیا کہ خدائے قادر اور علیم اور خبیر کے ہاتھ سے جھوٹے اور سچے میں فرق کیا جائے۔ہمارے مخالف مولوی اس بات کو جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایسے شخص سے کس قدر بیزاری ظاہر کی ہے جو خدائے تعالیٰ پر افترا باندھے یہاں تک کہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوفرمایا ہے کہ اگر بعض قول میرے پر افترا کرتا تو میں فی الفور پکڑ لیتا اور رگ جان کاٹ دیتا۔غرض خدا تعالیٰ پر افترا کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں فلاں الہام مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے حالانکہ کچھ بھی نہیں ہوا ایک ایسا سخت گناہ ہے کہ اس کی سزا میں صرف جہنم کی ہی وعید نہیں بلکہ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ