حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 121
حیات احمد ۱۲۱ جلد چهارم ایسے کذاب اور بیباک مفتری کو جلد نہ پکڑے۔یہاں تک کہ اس افترا پر ہیں برس سے زیادہ عرصہ گزر جائے۔کون اس کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے مہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے۔اس لمبے عرصہ تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے۔جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔اللہ جَلَّ شَانُہ فرماتا ہے وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا۔یعنی اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باند ھے۔بیشک مفتری خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔سو ایک تقوی شعار آدمی کے لئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا بلکہ میرے ظاہر اور میرے باطن اور جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کر سکتا۔میں جوان تھا جب خدا کی وحی اور الہام کا دعویٰ کیا اور اب میں بوڑھا ہو گیا اور ابتداء دعوئی پر بیس برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔بہت سے میرے دوست اور عزیز جو مجھ سے چھوٹے تھے فوت ہو گئے۔اور مجھے اُس نے عمر دراز بخشی اور ہر یک مشکل میں میرا متکفل اور متولی رہا۔پس کیا اُن لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر افترا باندھتے ہیں۔اب بھی اگر مولوی صاحبان مجھے مفتری سمجھتے ہیں تو اس سے بڑھ کر ایک اور فیصلہ ہے اور وہ یہ کہ میں اُن الہامات کو ہاتھ میں لے کر جن کو میں شائع کر چکا ہوں مولوی صاحبان سے مباہلہ کروں۔اس طرح پر کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کروں کہ میں درحقیقت اُس کے شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور در حقیقت اُس نے مجھے چہار دہم صدی کے سر پر بھیجا ہے تا میں اس فتنہ کو فرو کروں کہ جو اسلام کے مخالف سب سے زیادہ فتنہ ہے اور الانعام: ۲۲