حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 115 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 115

حیات احمد ۱۱۵ جلد چهارم سید المرسلین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء نہیں سمجھتے یا ملائک سے انکاری یا حشر ونشر وغیرہ اصول عقائد اسلام سے منکر ہیں یا صوم وصلوٰۃ وغیرہ ارکانِ اسلام کو نظر استخفاف سے دیکھتے یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔نہیں بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکروں کو ملعون اور خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ یقین رکھتے ہیں۔اگر ہمیں ہمارے دعوی کے موافق قبول کرنے کے لئے یہی مَا بِهِ النزاع ہے تو ہم بلند آواز سے بار بار سناتے ہیں کہ ہمارے یہی عقائد ہیں جو ہم بیان کر چکے ہیں۔ہاں ایک بات ضرور ہے جس کے لئے یہ اشتہار مباہلہ لکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف فرما کر اس صدی چہار دہم کا مجد دقرار دیا ہے اور ہریک مجد د کا بلحاظ حالت موجودہ زمانہ کے ایک خاص کام ہوتا ہے۔جس کے لئے وہ مامور کیا جاتا ہے سو اس سنت اللہ کے موافق یہ عاجز صلیبی شوکت کے توڑنے کے لئے مامور ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس خدمت پر مقرر کیا گیا ہے کہ جو کچھ عیسائی پادریوں نے کفارہ اور تثلیث کے باطل مسائل کو دنیا میں پھیلایا ہے اور خدائے واحد لاشریک کی کسر شان کی ہے یہ تمام فتنہ سچے دلائل اور روشن براہین اور پاک نشانوں کے ذریعہ سے فرو کیا جائے۔اس بات کی کسی کو خبر نہیں کہ دنیا میں اس زمانہ میں ایک ہی فتنہ ہے جو کمال کو پہنچ گیا ہے اور الہی تعلیم کا سخت مخالف ہے۔یعنی کفارہ اور تثلیث کی تعلیم جس کو صلیبی فتنہ کے نام سے موسوم کرنا چاہیے کیوں کہ تمام اغراض صلیب کے ساتھ وابستہ ہیں۔سوخدا تعالیٰ نے آسمان پر سے دیکھا کہ یہ فتنہ بہت بڑھ گیا ہے۔اور یہ زمانہ اس فتنہ کے تموج اور طوفان کا زمانہ ہے۔پس خدا نے اپنے وعدہ کے موافق چاہا کہ اس صلیبی فتنہ کو پارہ پارہ کرے اور اس نے ابتدا سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت