حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 116 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 116

حیات احمد ١١٦ جلد چهارم اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کا فرگش سے یہ فتنہ فر و ہوگا۔اسی کا نام اس وقت عیسی اور مسیح موعود ہوگا۔اگرچہ وہ پیشگوئیاں بہت سے نازک اور لطیف استعارات سے بھری پڑی ہیں مگر ان میں جو نہایت واضح اور کھلا کھلا نشان مسیح موعود کے بارے میں لکھا گیا ہے۔وہ کسر صلیب ہے یعنی صلیب کو توڑنا یہ لفظ ہر ایک عظمند کے لئے بڑے غور کے لائق ہے اور یہ صاف بتلا رہا ہے کہ وہ مسیح موعود عیسائیت کے موجزن فتنہ کے زمانہ میں ظاہر ہوگا نہ کسی اور زمانہ میں کیوں کہ صلیب پر سارا مدار نجات کا رکھنا کسی اور دقبال کا کام نہیں ہے۔یہی گروہ ہے جو صلیبی کفارہ پر زور دے رہا ہے اور اس کو فروغ دینے کے لئے ہر ایک دجل کو کام میں لا رہا ہے۔دخال بہت گزرے ہیں اور شاید آگے بھی ہوں۔مگر وہ دقبال اکبر جن کا دجل خدا کے نزدیک ایسا مکروہ ہے کہ قریب ہے جو اس سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔یہی وہ گروہ مُشتِ خاک کو خدا بنانے والا ہے۔خدا نے یہودیوں اور مشرکوں اور دوسری قوموں کے طرح طرح کے دجل قرآن شریف میں بیان فرمائے مگر یہ عظمت کسی کے دجل کو نہیں دی کہ اس دجل سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔پس جس گروہ کو خدا نے اپنے کلام میں دجال اکبر ٹھہرایا ہے۔ہمیں نہیں چاہیے کہ اس کے سوا اور کا نام دجال اکبر رکھیں۔نہایت ظلم ہو گا۔کہ اس کو چھوڑ کر کوئی اور دجّال اکبر تلاش کیا جائے۔یہ بات کسی پہلو سے درست نہیں ٹھہر سکتی کہ حال کے پادریوں کے سوا کوئی اور بھی دجال ہے جو ان سے بڑا ہے۔کیوں کہ جب کہ خدا نے اپنی پاک کلام میں سب سے بڑا یہی دجال بیان فرمایا ہے تو نہایت بے ایمانی ہوگی کہ خدا کے کلام کی مخالفت کر کے کسی اور کو بڑا د قبال ٹھہرایا جائے۔اگر کسی ایسے دجال کا کسی اور وقت وجود ہو