حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 114
حیات احمد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۱۱۴ جلد چهارم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ (رساله دعوت قوم) اشتہار مباہلہ بغرض دعوت اُن مسلمان مولویوں کی جو اس عاجز کو کافر اور کذاب اور مفتری اور دقبال اور جہنمی قرار دیتے ہیں رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَرِحِينَ لي اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔چونکہ علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرف سے فتنہ تکفیر و تکذیب حد سے زیادہ گزر گیا ہے اور نہ فقط علماء بلکہ فقراء اور سجادہ نشین بھی اس عاجز کو کافر اور کاذب ٹھہرانے میں مولویوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔اور ایسا ہی ان مولویوں کے اغوا سے ہزارہا ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ وہ ہمیں نصاری اور یہود اور ہنود سے بھی ا کفر سمجھتے ہیں۔اگر چہ اس تمام فتنہ تکفیر کا بوجھ نذیر حسین دہلوی کی گردن پر ہے مگر تا ہم دوسرے مولویوں کا یہ گناہ ہے کہ انہوں نے اس نازک امر تکفیر مسلمانوں میں اپنی عقل اور اپنی تفتیش سے کام نہیں لیا۔بلکہ نذیر حسین کے دجالا نہ فتویٰ کو دیکھ کر جو محمد حسین بٹالوی نے تیار کیا تھا بغیر تحقیق اور تنقیح کے اس پر ایمان لے آئے۔ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اُس کے نا سعادتمند شاگر دمحمد حسین کا یہ سراسر افترا ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے یا ہم خود دعوی نبوت کرتے ہیں یا نعوذ باللہ حضرت الاعراف: ۹۰