حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 80 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 80

حیات احمد ۸۰ جلد سوم اللہ تعالیٰ آپ کو مسیح موعود بنا دے گا۔میں ان واقعات کو اس غرض سے لکھ رہا ہوں کہ ایک زمانہ پیشتر سے آپ کو اس قسم کے مکاشفات یا الہامات ہو رہے تھے جن میں آپ کی مماثلت مسیح ابن مریم سے ہوتی تھی بہر حال ۱۸۷۲ء کی یہ رویا آپ نے براہین احمدیہ جلد سوم کے صفحہ ۲۵۳ کے حاشیہ نمبر ایک میں درج کی ہے جو اس طرح پر ہے تخمینا دس برس کا عرصہ ہوا ہے جو میں نے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا اور مسیح نے اور میں نے ایک ہی جگہ ایک ہی برتن میں کھانا کھایا اور کھانے میں ہم دونوں ایسے بے تکلف اور بامحبت تھے کہ جیسے دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں۔اور جیسے قدیم سے دور فیق اور دلی دوست ہوتے ہیں اور بعد اس کے اسی مکان میں جہاں اب یہ عاجز اس حاشیہ کولکھ رہا ہے میں اور مسیح اور ایک اور کامل اور کمل سید آل رسول دالان میں خوش دلی سے ایک عرصہ تک کھڑے رہے اور سید صاحب کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا اس میں بعض افراد خاصہ امت محمدیہ کے نام لکھے ہوئے تھے اور حضرت خداوند تعالیٰ کی طرف سے ان کی کچھ تعریفیں لکھی ہوئی تھیں چنانچہ سید صاحب نے اس کاغذ کو پڑھنا شروع کیا جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ مسیح کو امت محمدیہ کے ان مراتب سے اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ جو عند اللہ ان کے لئے مقرر ہیں۔اور اس کا غذ میں عبارت تعریفی تمام ایسی تھی کہ جو خالص خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی سو جب پڑھتے پڑھتے وہ کاغذ اخیر تک پہنچ گیا اور کچھ تھوڑا ہی باقی رہا تب اس عاجز کا نام آیا جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عبارت تعریفی لکھی ہوئی تھی هُوَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيْدِى وَ تَفْرِيْدِى فَكَادَ أَنْ يُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ یعنی وہ مجھ سے ایسا ہے جیسے میری تو حید اور تفرید سو عنقریب لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔یہ اخیر فقرہ فَكَادَاَنْ يُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ اسی وقت بطور الہام بھی القا ہوا چونکہ مجھ کو اس روحانی علم کی اشاعت کا ابتدا سے شوق ہے اس لئے یہ خواب اور یہ القا بھی کئی مسلمانوں اور کئی ہندوں کو جواب تک قادیان میں موجود ہیں اسی وقت بتلایا گیا اب دیکھئے کہ یہ خواب اور یہ الہام بھی کس قدر عظیم الشان اور انسانی طاقتوں سے باہر ہے اور گو ابھی تک یہ پیشگوئی کامل طور پر پوری نہیں ہوئی مگر اس کا اپنے وقت پر پورا ہونا