حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 65 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 65

حیات احمد جلد سوم عرصہ میں بعض قرب وجوار کے لوگوں نے بیعت بھی کی اور یہ لوگ غرباء یا زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جیسا کہ ہمیشہ سے سنت اللہ جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مامورین کو ابتداء غرباء کی جماعت قبول کرتی ہے اور آخری زمانہ کے متعلق تو خود حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ جس طرح پر اسلام کا آغاز غرباء میں ہوا آخری زمانہ میں بھی غریبوں ہی میں اس کا احیاء ہو گا اور ایسے غرباء کے متعلق آپ نے فرمایا فطوبى لِلْغُرْبَآءِ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان بقیہ حاشیہ نہیں ہے اور اس نے کچھ سکے چاندی اور تابنے کے رکھے ہوئے تھے۔یہ دکھانے کے لئے کہ کسی قدر چندہ ہوا ہے اور ابھی اور ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مکرمی حضرت قاضی خواجہ علی صاحب رضی اللہ عنہ کو ( جو بڑے ہی مخلص اور حضرت کی راہ میں فدا شدہ بزرگ تھے ) فرمایا کہ قاضی صاحب ان کے ساتھ جا کر کفن کا سامان کر دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس قسم کی عادت نہ تھی بلکہ عام طور پر جو مناسب سمجھتے دیدیتے۔اس ارشاد پر خدام کو تعجب ہوا۔قاضی صاحب نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ کیا دیدوں بلکہ وہ ساتھ ہی ہو گئے اور اسے کہا چلو بھائی میں چل کر تمام انتظام کرتا ہوں۔وہ سائل قاضی صاحب کو لے کر رخصت ہوا۔تھوڑی دیر کے بعد قاضی صاحب ہنستے ہوئے واپس آئے اور کہا کہ : حضرت وہ تو بڑا دھوکہ باز تھا۔راستہ میں جا کر اس نے میری منت خوشامد شروع کی کہ خدا کے واسطے آپ نہ جاویں جو کچھ دینا ہو دے دو میں نے کہا کہ مجھے تو خود جانے کا حکم ہے جو کچھ تمہارے پاس ہے یہ مجھے دو جو کچھ خرچ آئے گا میں کروں گا۔آخر اس نے جب دیکھا کہ میں نہیں ملتا تو اس نے ہاتھ جوڑ کر ندامت کے ساتھ کہا کہ نہ کوئی مرا ہے نہ کفن دفن کی ضرورت ہے۔یہ میرا پیشہ ہے اب میری پردہ دری نہ کرو تم واپس جاؤ اور مجھے چھوڑ دو میں اب یہ کام نہیں کروں گا“ جب قاضی صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو طبعی طور پر اس کے سننے سے ہنسی بھی آئی مگر آپ کی فراست مومنانہ اور اخلاق کا بھی عجیب اثر ہوا۔آپ نے حسن ظن کر کے اس کو جواب تو نہ دیا مگر ایسا طریق اختیار کیا جس سے اس کی اصلاح ہوگئی اور غیر محل پر آپ کو خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑی۔