حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 64 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 64

حیات احمد ۶۴ جلد سوم اپریل ۱۸۸۹ء کے دوسرے ہفتہ کے شروع ہی میں آپ قادیان واپس آ گئے جیسا کہ حضرت چودھری رستم علی صاحب کے نام ایک مکتو بہت سے معلوم ہوتا ہے۔( جو حاشیہ میں درج ہے) قادیان واپس آجانے کے بعد اسی سال کی آخری سہ ماہی تک کوئی سفر نہیں کیا اور اس مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی منشی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔خوشی ہوئی۔میں لڑکے کے واسطے دعا کروں گا اور ۱۸ را پریل ۱۸۸۹ء کو قادیان روانہ ہوں گا انشاء اللہ۔۱۵ را پریل ۱۸۸۹ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ از لودھیانہ از عبداللہ سنوری سلام علیکم پذیر۔حافظ حامد علی صاحب کی طرف سے سلام علیک۔اس اطلاع کے بعد آپ قادیان تشریف لے گئے۔ماہ جون ۱۸۸۹ ء کے اواخر میں حضرت چودہری صاحب نے آپ کو اپنے ایک عزیز کی شادی کی تقریب پر مدعو کیا مگر آپ نے بعض مجبوریوں کی وجہ سے عدم شرکت کی اطلاع دی۔ان ہی ایام میں حضرت حکیم الامت لود ہا نہ جانیوالے تھے۔اور ۲۷ /جون سے پہلے چلے جانیوالے تھے۔لودھیانہ سے حضرت حکیم الامت کو واپسی پر آپ نے قادیان آنے کی تحریک فرمائی حضرت حکیم الامت کا یہ سفر لودہا نہ اپنی اہلیہ ثانی حضرت سیدہ صغری بیگم صاحبہ کو لانے کے لئے تھا۔مگر یہ سفر بالآ خراگست ۱۸۸۹ء تک ملتوی ہوتا گیا چنانچہ ۲۵ / اگست ۱۸۸۹ء کو آپ نے چودہری صاحب کو لکھا کہ مولوی نورالدین صاحب بصحت تمام جموں پہنچ گئے ہیں۔لودہانہ کا ایک عجیب واقعہ آپ ۱۸۸۹ء میں جو بیعت کا سال ہے اور ہا نہ میں موجود تھے۔ایک موقعہ پر آپ کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے ذکر کیا کہ میرا ایک عزیز فوت ہو گیا ہے۔میرے پاس کفن دفن کے لئے کچھ انتظام