حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 66 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 66

حیات احمد ۶۶ جلد سوم میں سے بعض کا مختصر ذکر کر جاؤں جن سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں اپریل ۱۸۸۹ ء تک آپ قادیان واپس ہو چکے تھے اس لئے اس کے بعد جن سعادت مندوں کو یہ شرف حاصل ہوا ان میں سے بعض یہ ہیں۔حضرت مولوی صادق حسین صاحب حضرت مولوی صادق حسین صاحب حکیم بھی تھے اور مختار عدالت بھی اور ایک صاحب علم اخبار نویس بھی جوانی کی حالت میں میں نے ان کو دیکھا تھا نہایت وجیہ اور طرحدار تھے۔سلسلہ کے ساتھ ان کے تعلقات تو مولوی تفضل حسین صاحب ہی کے ذریعہ ہوئے مگر آخر میں وہ سلسلہ کے تبلیغی مشاغل میں پورے منہمک ہو گئے اور اپنے پیشہ میں کوئی نمایاں ترقی نہ کر سکے اور سراسر سلسلہ کی تبلیغ کے لئے وقف تھے اور اٹاوہ کی جماعت ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے سلسلہ کی تائید کے لئے انہوں نے اخبار بھی جاری کیا تھا۔با بو محکم دین صاحب مختار امرتسر اس عہد کے مخلصین میں حضرت بابو محکم دین مختار عدالت بھی ہیں یہ بڑے ظریف طبع اور صوفی منش تھے انہوں نے ۲۶ اپریل ۱۸۸۹ء کو بیعت کی تھی اور خاکسار عرفانی کے ساتھ ان کے تعلقات اخوت کا سلسلہ ۱۸۹۳ ء میں قائم ہوا اور آخر وقت تک قائم رہا۔حضرت مولوی حسن علی صاحب رضی اللہ عنہ بھاگلپوری جب امرتسر آئے تو با بومحکم الدین صاحب نے ان سے حضرت اقدس کا ذکر کیا اور آپ کو قادیان آنے کی تحریک کی اور وہ خود بھی آپ کے ساتھ قادیان آئے اگر چہ حضرت مولوی صاحب نے اپنی کتاب تائید حق میں اتنا ہی لکھا کہ دو ایک دوست ساتھ ہوئے گو انہوں نے نام نہیں لکھا مگر میں جانتا ہوں ان میں سے ایک شیخ عبدالعزیز نومسلم تھے جو اہلحدیث تھے۔اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے شاگرد کہلاتے تھے اور انجمن حمایت اسلام کے جنرل سکرٹری تھے اور حضرت مولوی حسن علی صاحب کی سعی سے