حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 63
حیات احمد اطاعت کے متعلق ایک موقعہ پر لکھا ہے ے ۶۳ ہمہ خلق و جہاں خواہد برائے نفس خود عز خلاف من کہ مے خواهم براہِ یار ذلت را جلد سوم دوسرے دعوت کے موقعہ پر آپ کے عملی اخلاق کو دوسروں نے مشاہدہ کیا کہ اپنے خدام کو اپنے ساتھ شریک کیا اور کسی قسم کا امتیاز باقی نہ رکھا یہ اخوت و مساوات کا عملی سبق تھا۔تیسرے آپ نے اپنے عمل سے بتایا کہ اسلام تکلیف مالا يطاق کا مذہب نہیں وہ دین الیسر ہے۔میز پر کھانا کھانا منوع نہیں ہے اور خصوصاً ایسی صورت میں کہ زمین ہی پر سب بیٹھے تھے صرف دستر خوان کو چھوٹی میزوں کی صورت میں آسانی کے لئے اونچا کر دیا گیا تھا۔اور ایک صحیح مسئلہ کے بیان کرنے میں آپ نے میر عباس علی صاحب ایسے مخلص کی (جو وہ اس وقت تھا ) بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔اور اس سفر کا ایک عظیم الشان نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سفر ایک نشان بن گیا۔حاشیہ میں اس سفر کے حالات درج ہیں۔مولوی اسماعیل نے بعد میں ایک کتاب لکھی اور حضرت اقدس نے خود ان کے اشتہار کی تردید کے سلسلہ میں ( جو حاشیہ میں درج ہے ) آیت مباہلہ کو پیش کر دیا کہ یا تو وہ ان الزامات کا جو عرب نے لگائے ہیں ثبوت پیش کریں ورنہ پھر میدان مباہلہ میں آئیں اور آپ کی طرف سے تو اعلان ہو ہی گیا خودمولوی اسماعیل نے ایک کتاب لکھی اور اس میں مباہلہ کر لیا۔ابھی وہ کتاب ختم نہ ہوئی تھی کہ وہ اس مباہلہ کی سزا میں فوت ہو گیا اور حضرت اقدس کے نشانات صداقت میں ہمیشہ کیلئے یادگار چھوڑا گیا اس طرح پر علی گڑھ کا سفر بہت مفید ہوا۔سفر سے واپسی آپ قریباً ایک ہفتہ قیام کر کے واپس آ گئے اور واپسی پر لودہا نہ زیادہ قیام نہیں ہوا چی تر جمہ۔سب لوگ اور سارا جہاں اپنے لیے عزت چاہتا ہے ، برخلاف اس کے میں یار کی راہ میں ذلّت مانگتا ہوں۔