حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 62
حیات احمد ۶۲ جلد سوم میں منافقین کا جمع ہونا جو احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کے حالات میں بیان کیا گیا وہ پیشگوئی ملا صاحبوں سے متعلق ہے جو محراب میں کھڑے ہو کر زبان سے قرآنِ شریف پڑھتے اور دل میں روٹیاں گنتے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ ظہر اور عصر یا مغرب اور عشا کو سفر کی حالت میں جمع کرنا کب سے منع ہو گیا اور کس نے تاخیر کی حرمت کا فتویٰ دیا یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے نزدیک اپنے بھائی مردہ کا گوشت کھانا تو حلال ہے مگر سفر کی حالت میں ظہر اور عصر کو ایک جگہ پڑھنا قطعاً حرام اتَّقُوا اللَّـهَ أَيُّهَا الْمُوَحْدُوْنَ فَإِنَّ الْمَوْتَ قَرِيْبٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ - منه ( فتح اسلام صفحہ ۲۷ تا ۴۳ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷ تا ۲۶ حاشیه ) علی گڑھ کا سفر دراصل قبول دعوت اور ایفاء وعدہ کا نتیجہ تھا جو حضرت میر تفضل حسین صاحب رضی اللہ عنہ سے اُن کے اخلاق کی بنا پر کیا گیا تھا والا حضرت اقدس زیادہ سفروں کو پسند نہ فرماتے تھے اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص اشارہ یا ارشاد نہ ہو ہمیشہ پر ہیز کرتے اور سفر سے پہلے استخارہ ضرور کرتے اور اپنے خدام کو بھی اس کی طرف توجہ دلاتے اور تاکید کرتے۔سفر علی گڑھ کے نتائج علی گڑھ کا یہ سفر حقیقت میں کئی نشانات کا موجب ہے اور بعض امور دینیہ کے اظہار کا ذریعہ اور خود حضور کی اپنی سیرت کے ایک خاص پہلو پر روشنی ڈالتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے منشاء ہی کو مقدم کرتے تھے اس کے لئے خواہ آپ کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچتی۔اس سفر نے ظاہر کر دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں اگر منصوبہ یا ریا کاری ہوتی تو آپ تقریر کرتے اور جیسا کہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ آپ نے گھنٹوں اور ہزاروں کے مجمع میں تقریریں کی ہیں اور آپ نے اس موقعہ پر تقریر کرنے کا وعدہ بھی کر لیا تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے روک دیا تو آپ نے اس چیز کو تو گوارا کر لیا کہ لوگ استہزا کریں مگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو قبول نہ کیا اپنے اس عمل