حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 61 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 61

حیات احمد ۶۱ رعایت میرے لئے ایک ضروری امر تھا سو میں نے وہی کیا جو کرنا چاہئے تھا اور میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ میں نے اس چند روزہ اقامت کی حالت میں بعض دفعہ مسنون طور پر دو نمازوں کو جمع کر لیا ہے اور کبھی ظہر کے اخیر وقت پر ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو اکٹھی کر کے پڑھا ہے مگر حضرات موحدین تو کبھی کبھی گھر میں بھی نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لیتے ہیں اور بِلا سَفَرٍ وَمَطَرٍ پر عمل درآمد رہتا ہے۔میں اس سے بھی انکار نہیں کر سکتا کہ میں نے ان چند دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے کا بکلی التزام نہیں کیا۔مگر باوجود اپنی علالت طبع اور سفر کی حالت کے بکلی ترک بھی نہیں کیا چنانچہ مولوی صاحب کو معلوم ہوگا کہ اُن کے پیچھے بھی جمعہ کی نماز پڑھی تھی جس کے ادا ہو جانے میں اب مجھے شک پڑ گیا۔یہ بیج اور بالکل سچ ہے کہ میں ہمیشہ اپنے سفر کے دنوں میں مسجدوں میں حاضر ہونے سے کراہت ہی کرتا ہوں۔مگر معاذ اللہ اس کی وجہ کسل یا استخفاف احکام الہی نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے ملک کی اکثر مساجد کا حال نہایت ابتر اور قابل افسوس ہو رہا ہے اگر ان مسجدوں میں جا کر آپ امامت کا ارادہ کیا جائے تو وہ جو امامت کا منصب رکھتے ہیں از بس ناراض اور نیلے پیلے ہو جاتے ہیں۔اور اگر ان کا اقتدا کیا جائے تو نماز کے ادا ہو جانے میں مجھے شبہ ہے۔کیونکہ علانیہ طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کا ایک پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جا کر نماز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دوکان ہے کہ ان وقتوں میں جا کر کھولتے ہیں۔اور اسی دوکان پر ان کا اور ان کے عیال کا گزارہ ہے چنانچہ اس پیشہ کے عزل ونصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کیلئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔پس یہ امامت نہیں یہ تو حرام خوری کا ایک مکر وہ طریقہ ہے کیا آپ بھی ایسے نفسانی بیچ میں پھنسے ہوئے نہیں پھر کیونکر کوئی شخص دیکھ بھال کر اپنا ایمان ضائع کرے مساجد جلد سوم