حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 60
حیات احمد ۶۰ نہ آیا۔ابو جہل ، ابولہب کو یقین نہ آیا مگر ان کو آیا جو دل کے غریب اور نفس کے پاک تھے سے ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده قولہ مدعی ہونا کرامات کے خلاف ہے اور یہ کہنا کہ جس کو انکار ہو وہ آ کر دیکھے یہ دعاوی باطلہ ہیں۔اقول یہ باتیں انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اُس کی طرف سے ہیں جس کو ہر ایک دعویٰ پہنچتا ہے پھر کون حق پرست ان کو باطل کہہ سکتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ ادعا کسی فوق القدرت بات کا کوئی نبی بھی نہیں کر سکتا۔مگر کیا ایسا ادعا بتوسط کسی نبی یا رسول یا محدث کے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی جائز نہیں؟ قولہ میں ملاقات کرنے سے بالکل بے عقیدہ ہو گیا ہوں میری رائے میں جو موحد اُن سے ملاقات کرے گا ان کا معتقد نہ رہے گا۔نماز ان کی اخیر وقت ہوتی ہے جماعت کے پابند نہیں۔اقول مولوی صاحب کی بے عقیدگی کی تو مجھے پروانہیں مگر ان کے جھوٹھ اور افترا اور غایت درجہ کی بدظنیوں پر سخت تعجب ہے۔اے خداوند کریم! اس اُمت پر رحم کر جس کے رہنما اور ہادی اور سر پرست ایسے ایسے مولوی سمجھے گئے ہیں۔اب ناظرین اس اعتراض پر بھی غور کریں جو بخل اور حسد کے جوش سے مولوی صاحب کے منہ سے نکلا۔ظاہر ہے کہ یہ عاجز صرف چند روز تک مسافرانہ طور پر علی گڑھ میں ٹھہرا تھا اور جو کچھ مسافروں کے لئے شریعت اسلام نے رخصتیں عطا کی ہیں اور ان سے دائمی طور پر انحراف کرنا ایک الحاد کا طریق قرار دیا ہے۔اُن سب امور کی ترجمہ - یہ سعادت خدا تعالیٰ کے عطا کئے بغیر زور بازو سے نہیں حاصل ہو سکتی۔جلد سوم