حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 52
حیات احمد فَطُوبَى لِلْغُرْبَاءِ ۵۲ جلد سوم لودہانہ کے دوستوں کے لئے تو گھر کا ہی معاملہ تھا پھر پٹیالہ کے احباب بھی بہت دور نہ تھے مگر جموں ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، جالندھر اور پشاور سے آنے والے احباب صد ہزار مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس نعمت سے نوازا۔کپورتھلہ کی جماعت کے چار بزرگ تھے اور یہ سب کے سب اہلِ قلم تھے مگر جز معاش۔اس زمانہ میں تنخواہیں بہت ہی کم تھیں۔ضلع گوجرانوالہ سے آنے والے حضرت قاضی ضیاءالدین صاحب رضی اللہ عنہ جو کوٹ قاضی کے رہنے والے تھے یہ وہ بزرگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے عشق و محبت میں ایک گداز روح رکھتے تھے اور انہوں نے ۱۸۸۳ء میں قادیان آ کر ملاقات کی تھی اور وہ مئے محبت میں ایسے سرشار ہوئے کہ انہوں نے اپنے اس جذ بہ محبت کا اظہار مسجد اقصیٰ کی ایک دیوار پر یہ شعر کہہ کر کیا۔- حسن و خلق و دلبری بر تو تمام صحبت بعد از لقائے تو حرام عرصہ دراز تک یہ شعر پہلے محراب کے جنوبی پہلو پر لکھا ہوا تھا۔غرض زیادہ تعداد تو ریاست پٹیالہ اور لودہانہ ہی کے علاقہ کے تھی۔ایک ہندو نومسلم بیعت کرنے والوں میں ایک شخص رام سنگھ نامی تھے وہ نومسلم تھے اور ان کا نام شیخ عبدالعزیز رکھا گیا تھا لیکن حضرت اقدس نے بیعت کے بعد اس کا نام رام سنگھ قائم ނ رہنے دیا۔ایک مرتبہ ایک بنگالی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین رضی اللہ عنہ کی تحریک احمدی ہوا اس کا نام چڑ جی تھا۔وہ قادیان آیا اور اسلام قبول کر کے بیعت کی حضرت نے اس کے نام چڑ جی کو قائم رکھا۔ہلی تر جمہ۔آپ کمال درجہ کے حسین، خلیق اور دلبر ہیں آپ کی ملاقات کے بعد کسی اور کی صحبت میں جانا حرام ہے۔