حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 51
حیات احمد ۵۱ جلد سوم بیعت کر چکے ہیں سو چونکہ آپ بھی شرف اس بیعت سے مشرف ہیں اور جہاں تک فراست حکم دیتی ہے رشد اور دیانت رکھتے ہیں اس لئے وکالتاً اخذ بیعت کے لئے آپ کو یہ اجازت نامہ دیا جاتا ہے کہ آپ میری طرف سے وکیل ہو کر اپنے ہاتھ سے بندگانِ خدا سے جو طالب حق ہوں بیعت لیں مگر انہیں کو اس سلسلہ بیعت میں داخل کریں جو سچے دل سے اپنے معاصی سے توبہ کرنے والے اور اتباع طریقہ نبویہ کے لئے مستعد ہوں اور ان کے لئے دلی تضرع سے دعا کریں اور پھر نام ان کے بقید ولدیت و سکونت و پیشہ وغیرہ اس تصریح سے کہ اصل سکونت کہاں ہے اور کس محلہ میں اور عارضی طور پر کہاں ہیں بھیج دیں تا یہ عاجز اُن کے لئے دعا کرنے کا موقعہ پاتا رہے اور پورے تعارف سے وہ یا در ہیں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى راقم احقر عباداللہ الصمد غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب۔اٹھائیس شعبان ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۹ را پریل ۱۸۸۹ ء روز دوشنبه نشان مهر أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ مکرمی اخویم ڈاکٹر فیض محمد خاں صاحب کو السلام علیکم پہنچا دیں۔اور ہر ایک صاحب جو بیعت کریں مناسب ہے کہ وہ براہ راست بھی اپنا اطلاعی خط بھیج دیں۔سَابِقُونَ الْأَوَّلُون اس وقت بیعت کرنے والے بلحاظ بیعت زبانی حیثیت سے تو سب سابقون الا ولون ہیں اور پھر اپنے نمبر بیعت کے لحاظ سے ایک دوسرے پر سابق ہے لیکن میں اپنے نقطہ خیال سے ان صحابہ کا مقام بہت اعلیٰ یقین کرتا ہوں جو اس مقصد کے لئے سفر کی تکالیف برداشت کر کے لودہانہ آئے اس وقت ریل کے سفر میں بھی ایسی سہولتیں نہ تھیں جو آج میسر ہیں اور بعض ایسے لوگ تھے کہ جو اپنی معاشی حالت کے لحاظ سے غریب کہے جا سکتے ہیں مگر ان کی اس غریبی پر ہزاروں دولتیں شار ہیں اس لئے کہ وہ ان غربا میں داخل ہیں جن کے لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔