حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 53 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 53

حیات احمد سفر علی گڑھ ۵۳ جلد سوم آخر مارچ ۱۸۸۹ء تک آپ لو ر ہا نہ میں قیام پذیر رہے اپریل کے شروع میں آپ نے ایک مختصر سا سفر علی گڑھ کا کیا۔اس سفر کی تقریب یہ تھی کہ مولوی سید تفضل حسین صاحب جو خاص اٹاوہ کے باشندے تھے۔زمانہ براہین احمدیہ سے حضرت اقدس کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے۔چنانچہ اٹاوہ کی جماعت کے آدم وہی ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات کے سلسلہ میں حضرت شیخ مولوی حکیم صادق حسین سلسلہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے شاندار کام کیا۔ان ایام میں وہ علی گڑھ میں کلکٹری کے سرشتہ دار تھے۔انہوں نے کئی مرتبہ حضرت کی خدمت میں تشریف لانے کے لئے لکھا تھا اس موقعہ پر حضرت نے ان کی دعوت قبول کر لی اور علی گڑھ کا سفر اختیار کیا اس سفر میں آپ کے ہمراہ صرف میر عباس علی صاحب حضرت حافظ حامد علی صاحب اور حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری تھے۔اس سفر کے متعلق میں حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب کی روایت درج کر چکا ہوں۔حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنا بیان اس وقت تک اور اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ہی مل کر نمازیں پڑھی جاتی تھیں بے دین پیشہ ور مولویوں کو آپ سے ایک کد شروع ہو چکی تھی اس کی ابتداء تو لودہانہ کے برادران ثلاثہ سے ہوئی تھی لیکن جوں جوں سلسلہ ترقی کر رہا تھا مخالفت اپنا رنگ بدلتی جا رہی تھی اور وسعت اختیار کر رہی تھی۔علی گڑھ کے مولوی اسماعیل صاحب اس موقعہ کی تلاش میں تھے کہ مخالفت کے لئے کوئی حیلہ ہاتھ آئے چنانچہ ان کی شامت اعمال نے سامان پیدا کر دیا۔جمعہ کی نماز کے بعد حضرت اقدس کی تقریر کے لئے قبل از وقت تجویز ہوئی اور حضرت نے منظور کر لیا لیکن تقریر سے پیشتر حضرت اقدس نے با علام الہی تقریر کرنے سے انکار کر دیا اس پر مولوی اسمعیل صاحب کو ایک بہانہ ہاتھ آیا اور انہوں نے بعد جمعہ مخالفت میں ایک تقریر کر ڈالی