حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 50 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 50

حیات احمد جلد سوم ۲۰ رجب ۱۳۰۶ھ کو لودہانہ میں بیعت لی۔یہ بیعت حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور کے ایک مکان میں ہوئی جو اس وقت دار البیعت کے نام سے جماعت اور ہانہ کے قبضہ میں ہے۔اس بیعت کے بعد سب سے پہلا آدمی جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کی اجازت دی وہ مولوی ابوالخیر عبداللہ صاحب ولد ابوعبداللہ احمد قوم افغان سکنہ تنگی تحصیل چارسدہ ضلع پشاور ہیں۔افسوس ہے کہ آج ان کے تفصیلی حالات سے واقف نہیں تا ہم میں اس کوشش اور فکر میں ہوں کہ ان کے حالات معلوم ہوسکیں مکرم صاحبزادہ سراج الحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مولوی ابوالخیر صاحب کو دیکھا تھا تمیں پینش سال کے خوشرو نوجوان تھے۔میانہ قد تھا ذی علم اور متقی انسان تھے۔ان کے چہرے سے رشد اور سعادت کے آثار نمایاں تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جوا جازت نامہ مولانا ابولخیر عبداللہ صاحب کو لکھ کر دیا تھا۔وہ تاریخ بیعت سے پورے ایک ماہ چھ دن بعد لکھا یعنی ۲۹ را پریل ۱۸۸۹ء مطابق ۲۸/شعبان ۱۳۰۶ھ۔اجازت نامہ مذکور یہ ہے عرفانی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى۔اما بعد از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مولوی ابوالخیر عبدالله پشاوری بعد از السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ واضح باد چونکہ اکثر حق کے طالب کہ جو اس عاجز سے بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بوجہ ناداری وسفر دور دراز یا بوجه کم فرصتی و مزاحمت تعلقات قادیان میں بیعت کے لئے پہنچ نہیں سکتے اس لئے با تباع سنت حضرت مولانا وسید نا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ایسے معذور و مجبور لوگوں کی بیعت ان سعید لوگوں کے ذریعہ سے لیجائے کہ جو اس عاجز کے ہاتھ پر