حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 49 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 49

حیات احمد ۴۹ جلد سوم کے نسیان کی وجہ سے ہے اور یا یہ بات ہے کہ جس نے جو حصہ دیکھا اس کے مطابق بیان کر دی ہے۔( سیرت المہدی جلد اول صفحه ۲۹۳ روایت نمبر ۳۱۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء) آٹھویں اور نویں نمبر میں تو اختلاف ہی نہیں۔تیسرے نمبر پر میاں محمد حسین صاحب مراد آبادی کا ہی نام تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کو ایک عاشقانہ اخلاص تھا اور براہین احمدیہ کی طباعت کے وقت سے ان کو ارادت تھی۔چوتھی جلد اُن کے اہتمام سے طبع ہوئی۔وہ اعلیٰ درجہ کے خوشنویس تھے اور ریاست پٹیالہ میں آخر میں ملازم تھے اور چوتھے نمبر پر حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری پانچویں نمبر پر مولوی عبداللہ صاحب ساکن تنگی علاقہ چارسدہ تھے یہ بڑے مرتاض اور عابد، زاہد انسان تھے ان کے چہرے سے سعادت اور نور ولایت نمایاں تھا۔ہے۔پہلا احمدی جس کو حضرت نے بیعت لینے کی اجازت دی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ میں یہ پہلا شخص تھا جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ وَالسَّلام نے دوسروں سے بیعت لینے کی اجازت دی اور اس طرح پر عملاً ان کے ہاتھ کو گویا اپنا ہاتھ قرار دیا۔اس خصوص میں حضرت مولوی عبداللہ صاحب رضی اللہ عنہ کو ایک گونہ فضیلت حاصل انہوں نے ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت کی اور ۲۹ / اپریل ۱۸۸۹ء کو حضرت اقدس نے ان کو اجازت بیعت دی۔میں نے اس مکتوب کو اَلْحَمْدُ لِلہ الحکم کے خاص نمبر میں جو ۱۹۲۴ء میں شائع ہوا درج کر دیا تھا۔اب اس تاریخی دستاویز کو یہاں درج کر کے محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک زمانہ دراز تک لوگوں کی بیعت نہیں لی اور جب کبھی کوئی شخص بیعت کیلئے عرض کرتا تو آپ یہی فرماتے تھے کہ مجھے حکم نہیں یا میں مامور نہیں لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپ کو بیعت لینے پر مامور فرمایا تو آپ نے ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء مطابق