حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 48
حیات احمد ۴۸ جلد سوم ان کا بیان جو روایت نمبر ۳۱۵ میں درج ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے میر عباس علی صاحب نے حضرت قاضی خواجہ علی صاحب کو بلالا نے بھیج دیا ورنہ تیسرے نمبر پر میں ہی جاتا ان کی واپسی تک ے آدمی بیعت کر چکے تھے اور آٹھویں نمبر پر حضرت قاضی خواجہ علی صاحب اور نویں نمبر پر حضرت میر عنایت علی صاحب۔اس امر کے ذرا بھی احتمال کے بغیر کہ نعوذ باللہ اس نے یا اُس نے غلط کہا میں اسے صرف حافظہ میں ترتیب کو محوظ نہ رکھنے کا نتیجہ قرار دیتا ہوں میرے اپنے علم کے موافق کہ میں خود موجود تھا حضرت میر عنایت علی صاحب کا بیان صحیح ہے روایت نمبر ۳۱۵ حسب ذیل ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے کا حکم آیا تو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی۔ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیا گیا جس کی پیشانی پر لکھا گیا بیعت تو بہ برائے حصول تقوی وطہارت اور نام معه ولدیت وسکونت لکھے جاتے تھے اوّل نمبر پر حضرت مولوی نور الدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے۔دوئم میر عباس علی صاحب ان کے بعد شائد خاکسار ہی سوئم نمبر پر جاتا لیکن میر عباس علی صاحب نے مجھے کو قاضی خواجہ علی صاحب کو بلانے کے لئے بھیج دیا کہ ان کو بلا لاؤ۔غرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہو گئے ان کے بعد نمبر آٹھ پر قاضی صاحب بیعت میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا۔پھر حضرت نے فرمایا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو اندر بھیج دیں۔چنانچہ میں نے چودہری رستم علی صاحب کو اند رداخل کر دیا۔اور دسویں نمبر پر وہ بیعت ہو گئے۔اس طرح ایک ایک آدمی باری باری اندر جاتا تھا اور دروازہ بند کر دیا جاتا تھا خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیعت اولی میں بیعت کرنے والوں کی ترتیب کے متعلق روایات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے جو یا تو کسی راوی