حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 361
حیات احمد ۳۶۱ جلد سوم اور حضرت منشی محمد خاں رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت کو ان کی اولاد کے متعلق الہام ہوا کہ اولاد کے ساتھ نیک سلوک کیا جاوے گا۔( مجھے اس وقت یہی الفاظ یاد ہیں ) اور معجزانہ رنگ میں اس کی تجلی ہوئی۔ریاستیں سازشوں کا اڈا ہوتی ہیں۔اکثر لوگ کوشش کر رہے تھے کہ وہ بگھی خانہ کی افسری جو خاں صاحب کی وفات پر خالی ہو گئی تھی ان کو ملے۔مہاراجہ ولایت گئے ہوئے تھے جوڑ توڑ ہوتے رہے۔لیکن جب مہاراجہ نے سرزمین ہندوستان پر قدم رکھا تو حضرت منشی محمد خاں صاحب کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے خان صاحب عبدالمجید خاں صاحب کے تقرر کے احکام دیئے یہ تھا پہلا ظہور اس نشان کا۔اور بھی متعد دنشانات کپورتھلہ میں سلسلہ کے دشمنوں پر قہری تجلی کے رنگ میں ہوئے اور ایک احمدی مہتاب نامی کے ذریعہ حضرت اقدس کی صداقت کا نشان ظاہر ہوا۔حضرت منشی عبدالرحمن صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ریاست کپورتھلہ میں ایک گاؤں شیرانوالی ہے جہاں مسمی مہتاب احمدی رہتا تھا۔ایک بقیہ حاشیہ۔دستور تھا کہ حاکم اپنا بستہ گھر لے جایا کرتے تھے۔چنانچہ اس کا بستہ بھی اس کے گھر پہنچا۔اس کے ایک آدمی کی زبانی ہمیں معلوم ہوا جو کہ جمعدار تھا کہ رات کے دو بجے وہ حاکم اٹھا۔خدا جانے اس کے خواب میں کیا نظر آیا۔اس نے اپنا بستہ طلب کیا۔اور اس فیصلہ کے دو ورق آخر کے پھاڑ دیئے اور مقدمہ کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں کر دیا۔جس میں لکھا کہ غیر احمد یوں کو اس مسجد میں نہ اذان دینے کا حق ہے نہ جماعت کرنے کا۔اگر ان کو نماز پڑھنا ہے تو احمدی امام کے پیچھے پڑھیں۔اگر اس فیصلہ کو کوئی دیکھے تو اسے بڑا تعجب ہو۔اور دو ورق کا ایسا مضمون ہے کہ گویا غیر احمدیوں کو مسجد دینے والا ہے۔لیکن آخر دو ورق میں احمدیوں کے حق میں فیصلہ کیا گیا ہے۔غیر احمدیوں نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل جج صاحب کے پاس کی جو کہ ہندو تھا۔اس نے ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رکھا۔پھر اس کی اپیل عدالت بالا میں ہوئی۔وہاں ایک آریہ افسر تھا۔ہمارے وکیل نے کہا کہ اب تم لوگوں کو یہ مسجد نہیں ملنے کی۔کیونکہ آریہ احمدیوں کے سخت دشمن ہیں اس حاکم نے دونوں فریق سے پچیس پچیس روپیہ لے کر مثل ایک بڑے وکیل کے پاس بھیج دی کہ اس میں تمہاری کیا رائے ہے۔کسی زمانہ میں وہ وکیل اور میاں حبیب الرحمن صاحب احمدی کپورتھلہ میں ہم مکتب تھے۔وہ ان کے پاس گئے۔اور مقدمہ کا حال بیان کیا۔اور