حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 360 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 360

حیات احمد ۳۶۰ گے آپ گھبرائیں نہیں۔منشی صاحب اس کے بعد عرصہ تک مجھ سے ناراض رہے۔“ جلد سوم ނ اس روایت کے متعلق ہر چند کسی تصریح کی ضرورت نہیں مگر میں نے حضرت ظفر۔( جن کو میرے ساتھ لڑہی محبت کے تعلقات اور بے تکلفی تھی ) دریافت کیا تھا کہ آپ نے کپورتھلہ کی جماعت کو کیوں آگاہ نہ کیا۔حضرت نے آپ کی جماعت فرمایا تھا۔ان کی طبیعت میں بذلہ اور ظرافت بھی تھی کہنے لگے کہ قرآن شریف میں حضرت ابراہیم ایک شخص کو امت کہا گیا تو کیا میں اکیلا جماعت کپور تھلہ نہیں ہو سکتا اور حضرت نے تو مجھے فرمایا تھا۔میں نے عزم کر لیا کہ میں ہی اس سعادت کو حاصل کروں۔حضرت منشی اروڑے خاں صاحب کو جب معلوم ہوا تو با وجود کمال اتحاد اور محبت کے وہ منشی صاحب سے کچھ دنوں کشیدہ رہے۔کیوں؟ محض اس لئے کہ اس قربانی میں ان کو حصہ نہ ملا۔ی تھی روح عمل جماعت کپورتھلہ کی قربانیوں میں اور حضرت منشی اروڑے خان کا وہ واقعہ تو جماعت نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی تقریر میں بارہا سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد وہ کچھ اشرفیاں لے کر حاضر ہوئے اور بے تاب ہو گئے۔وہ نہایت سادہ طبع بزرگ تھے ان کی زندگی کے حالات کسی دوسرے موقعہ پر مجھے یا کسی اور کوتو فیق ملی تو پیش کئے جاویں گے۔پھر جماعت کپورتھلہ کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ کپورتھلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ ☆ الصلوۃ والسلام کے کئی نشانات ظاہر ہوئے سب سے بڑا نشان وہاں کی مسجد کے متعلق ہے۔حمید حاشیہ۔دہلی سے واپسی پر حضور نے لدھیانہ میں قیام فرمایا۔وہاں جلسہ تھا اور سیالکوٹ وغیرہ شہروں سے بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔حضور جلسہ گاہ میں بیٹھے تھے کہ منشی فیاض علی صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ حضور ہماری مسجد کا مقدمہ دائر ہے شہر کے تمام رئیس اور تمام حاکم کپورتھلہ کے غیر احمدیوں کی امداد کر رہے ہیں اور ہم چند غریب احمدیوں کی بات بھی کوئی نہیں سنتا۔حضور دعا فرما ئیں۔اس پر حضور نے فرمایا۔اگر ہمارا سلسلہ سچا ہے تو یہ مسجد تم لوگوں کومل جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حاکم اول نے فیصلہ غیر احمدیوں کے حق میں دیا۔اور چار ورق پر لکھا اور کہا کہ ہم فیصلہ کل سنا دیں گے۔وہاں