حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 362 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 362

حیات احمد ۳۶۲ جلد سوم سال اس گاؤں میں سخت طاعون پڑی اس نے اپنے کوٹھے پر کھڑے ہو کر آواز دی کہ اے لوگو! جس نے طاعون سے بچنا ہے۔وہ میرے گھر میں داخل ہو جائے۔اس کی آواز پر بہت سے غیر احمدی اس کے گھر میں آگئے۔اس نے دعا کی کہ اے اللہ اگر تیرا مسیح سچا ہے تو ان کو طاعون سے بچالے خدا کی قدرت جو لوگ اس کے گھر میں آئے ان میں سے کوئی بھی طاعون سے نہ مرا۔نہ بیمار ہوا۔گاؤں کے اور بہت سے لوگ مر گئے۔“ بشارت 66 کپورتھلہ کی جماعت دنیا میں ہمارے ساتھ ہے اور قیامت ( یا جنت ) میں بھی ہمارے ساتھ رہے گی۔“ کپورتھلہ میں آپ تین مرتبہ تشریف لے گئے تھے پہلی مرتبہ آمد کے متعلق او پر لکھا گیا ہے بقیہ حاشیہ۔امداد چاہی۔اس نے جواب دیا کہ منشی صاحب حکیم جعفر علی میرے استاد بھی آئے تھے انہوں نے بھی اس مقدمہ کا حال بیان کر کے امداد چاہی تھی۔میں نہ آپ کا کہنا مانوں گا نہ حکیم صاحب کا۔جو رائے لکھوں گا از روئے انصاف لکھوں گا۔چنانچہ اس نے ہمارے حق میں رائے ظاہر کی اس کے بعد غیر احمدیوں کی اپیل کونسل میں ہوئی۔کونسل کے تین ججوں میں سے ایک غیر احمدی تھا۔جب غیر احمدی اس کے پاس جاتے تو وہ ان کو تسلی دیتا اور کہتا کہ آخر کار یہ اپیل ہمارے پاس ہی آئے گی۔ہم تم لوگوں کو یہ مسجد دلا دیں گے۔تم کچھ فکر نہ کرو۔اس نے احمدیوں سے کہہ بھی دیا کہ یہ مسجد پرانے مسلمانوں کو دی جائے گی۔تم نے نیا مذہب اختیار کیا ہے۔تم نئی مسجد بناؤ اور یہ بھی کہا کہ انگلی پیشی میں فیصلہ سنا دیا جائے گا لیکن اگلی پیشی سے پہلے ہی وہ مر گیا۔اس کی موت اس طرح واقع ہوئی کہ ایک دن کچہری جانے سے پہلے وہ حقہ پی رہا تھا کہ خون کی قے آئی۔اس نے مقدمہ کی مثل منگوائی تا فیصلہ غیر احمدیوں کے حق میں لکھ دے۔لیکن مثل آنے سے پہلے ہی اسے دوسرے قے آئی۔الغرض وہ مر گیا۔غیر احمدیوں کی انتہائی مخالفت اور کوشش پر بھی مسجد احمدیوں کے قبضہ میں رہی۔یہ مجسٹریٹ جو اس نشان کا موضوع ٹھہرا میاں عزیز بخش تھا۔جو ریاست میں بہت بڑا اعزاز رکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو توفیق اور مہلت نہ دی کہ وہ خلاف فیصلہ لکھے وَلِلَّهِ الْحَمْد ( عرفانی الكبير )