حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 359
حیات احمد ۳۵۹ جلد سوم کپورتھلہ کی اہمیت تاریخ سلسلہ میں تاریخ سلسلہ میں جیسے لدھیانہ کو ایک اہمیت حاصل ہے جماعت کپورتھلہ کو اپنے اخلاص اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق و محبت میں ایک خاص امتیاز حاصل ہے اور اس جماعت کی قربانیاں ایک غیر معمولی رنگ رکھتی ہیں میں یہاں ان کی تفصیل نہیں کر سکتا کہ اس جماعت کے افراد میں قربانیوں کے لئے باہم رشک تھا اور ان میں سے ہر ایک کے اندر یہ جذ بہ موجود تھا کہ وہ دوسروں سے آگے رہے پیچھے نہ رہے ان کے اس قسم کے رشک کے بعض واقعات ایک لذیذ ایمان پیدا کرتے ہیں وہ آپس میں ایک بُنْيَانِ مَرْصُوص اور ایک دوسرے کے لئے بھی اخوت اور محبت کا بے نظیر جذبہ رکھتے تھے لیکن کبھی ان میں اگر ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی تو وہ کسی دنیوی امر میں نہیں بلکہ اسی سلسلہ قربانی میں ہوتی۔میں اس جگہ ایک واقعہ بیان کرنے سے نہیں رک سکتا۔جو حضرت ظفر المظفر رضی اللہ عنہ کی ایک قربانی کا ہے۔ان کے ہی الفاظ میں سنو۔ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے۔کہ میں حاضر خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا۔کہ آپ کی جماعت ساٹھ روپے ایک اشتہار کے صرف کے لئے جس کی اشاعت ضرورت تھی برداشت کر لے گی۔میں نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ واپس آ کر اپنی اہلیہ کی سونے کی تلڑی فروخت کر دی اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر نہ کیا۔اور ساٹھ روپے لے کر میں اڑ گیا ( والد صاحب کے یہی لفظ ہیں۔محمد احمد ) اور لدھیانہ جا کر پیش خدمت کئے۔چند روز بعد منشی روڑ ا صاحب بھی لدھیانہ آگئے۔میں وہیں تھا۔ان سے حضور نے ذکر فرمایا۔کہ آپ کی جماعت نے بڑے اچھے موقعہ پر امداد کی۔منشی روڑا صاحب نے عرض کی جماعت کو یا مجھے تو پتہ بھی نہیں۔اس وقت منشی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ میں اپنی طرف سے آپ ہی روپیہ دے آیا ہوں۔وہ مجھ پر بہت ناراض ہوئے اور حضور سے عرض کیا۔اس نے ہمارے ساتھ بہت دشمنی کی جو ہم کو نہ بتایا۔حضور نے منشی روڑ ا صاحب سے فرمایا۔منشی صاحب خدمت کرنے کے بہت سے موقعہ آئیں