حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 356
حیات احمد ۳۵۶ جلد سوم مولوی محمد حسین صاحب سیالکوٹ میں مولوی محمد حسین صاحب سیالکوٹ پہنچے اور انہوں نے مباحثہ کے لئے بعض لوگوں کو واسطہ بنا کر بخیال خویش ایک ذلیل شکست کی تلافی چاہی اور یہ اس وقت پہنچے کہ آپ جلد واپس ہو رہے تھے آپ نے ان لوگوں کو جو پیغام لے کر آئے تھے گزشتہ مباحثہ لودھانہ اور دہلی کے واقعات کا مختصر ذکر کیا کہ اب مباحثہ کی ایسے شخص کے ساتھ کیا صورت ہوسکتی ہے جو کفر کا فتویٰ دے چکا۔اب قرآن کریم کے معیار پر وہ اپنے علماء اور مشایخ کو میدان میں لائیں یہ آسمانی فیصلہ ہوگا۔اور اب آسمانی فیصلہ اسی طرح پر ہو گا جس طرح ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے۔میں اگر اُس کی طرف سے نہیں ہوں جیسا کہ لوگ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ تو کسی مفتری کو مہلت نہیں دیتا لیکن اگر اس نے میری نصرت کی جیسا کہ اس نے مجھے اپنے الہامات میں بشارات دی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وعدے پورے ہو کر رہیں گے زمین و آسمان ٹل جاویں مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے نہیں مل سکتے تو میری تائیدات آسمانی اور میرے مخالفوں کی ناکامی خود ایک کھلا ہوا نشان اور فیصلہ ہو گا۔پس آپ لوگ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کریں ان پیغام لانے والوں میں مکرم شیخ غلام حیدر صاحب تحصیلدار بھی تھے۔جو بعد میں جہلم میں کرم دین کے مقدمہ کے وقت تحصیلدار تھے اور ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کے وقت گورداسپور میں تھے اور حضرت اقدس سے ایک مخلصانہ محبت رکھتے تھے اگر چہ بظاہر انہوں نے بیعت نہیں کی مگر وہ حضرت اقدس کی راستبازی۔تقویٰ و طہارت نفس کے ایسے قائل تھے کہ اپنے احباب کی مجلسوں میں یہ ذکر کرتے رہتے اور حضرت کے لئے بڑا جذ بہ ادب و احترام رکھتے تھے۔سیالکوٹ سے کپورتھلہ سیالکوٹ کچھ روز قیام کر کے آپ کپورتھلہ تشریف لے گئے۔وہاں کی جماعت نے پہلے بھی آپ سے وعدہ لیا تھا اور اس سفر میں بھی انہوں نے لاہور آ کر وعدہ کیا اور آپ نے سیالکوٹ